قندھار: دوسری رات، دوسرا دھماکہ

قندھار میں جہاں گزشتہ روز کار بم دھماکے میں چالیس سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے، بدھ کی رات ایک اور دھماکے کی اطلاعات ہیں۔
بتایا گیا ہے کہ بدھ کو ہونے والا دھماکہ اسی مقام کے قریب ہوا ہے جہاں منگل کی رات دھماکے میں اکتالیس افراد ہلاک اور ساٹھ سے زیادہ زخمی ہو گئے تھے۔
ایک مقامی افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ زخمی ہونے والوں کو ہسپتال منتقل کیا جا رہا ہے۔
طالبان کے گڑھ قندھار میں اس برس کئی حملے ہوئے ہیں۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز اور بدھ کو ہونے والے دھماکے ایسے وقت کیے گئے ہیں جب جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے ابتدائی نتائج سامنے آنا شروع ہوئے ہیں۔
شہر میں ایک سینئر حکومتی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا: ’ہمیں پتہ چلا ہے کہ ایک اور دہشت گرد حملہ ہوا ہے لیکن ابھی ہم مزید تفصیل حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔اس وقت یہاں بہت اندھیرا ہے اور فوری طور پر سمجھنا مشکل ہے کہ صورتِ حال کیسی ہے لیکن ہماری فورس سڑکوں پر آ گئی ہے۔‘
الجزیر ٹی وی کے ایک رپورٹر کا کہنا ہے کہ دھماکے سے مختلف دکانوں میں آگ لگ گئی ہے۔
گزشتہ روز ہونے والے دھماکے سے پہلے ایک مختلف بم دھماکے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔
جب سے امریکہ کی سالاری میں طالبان کی حکومت ختم کرنے کے لیے افغانستان پر حملہ ہوا ہے، موجودہ سال غیر ملکی افواج کے بدترین ثابت ہوا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی





















