افغان بم دھماکہ: چالیس ہلاک، ساٹھ زخمی

بعض اطلاعات کے مطابق بم ایک سے زیادہ تھے جنہیں کاروں میں نصب کیا گیا تھا اور یہ بم بیک وقت پھٹے۔ ایک اطلاع کے مطابق دھماکے میں ٹرک یا ٹینکر کا استعمال کیا گیا۔
،تصویر کا کیپشنبعض اطلاعات کے مطابق بم ایک سے زیادہ تھے جنہیں کاروں میں نصب کیا گیا تھا اور یہ بم بیک وقت پھٹے۔ ایک اطلاع کے مطابق دھماکے میں ٹرک یا ٹینکر کا استعمال کیا گیا۔

افغانستان کے جنوبی شہر قندھار میں کار بم کے ایک بڑے دھماکے میں کم از کم چالیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ڈاکٹروں کے مطابق اس دھماکے میں زخمی ہونے والے افراد کی تعداد ساٹھ کے قریب ہے۔ اکثر لوگ دھماکے کی شدت سے عمارتوں کے گرنے سے زخمی ہوئے۔

یہ دھماکہ جمعرات کو ہونے والے صدارتی انتخابات کے پہلے نتائج کے اعلان کے فوراً بعد ہوا۔

اس سے پہلے ایک بم دھماکے میں چار امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔ جب سے امریکہ کی سالاری میں طالبان کی حکومت ختم کرنے کے لیے افغانستان پر حملہ ہوا ہے، موجودہ سال غیر ملکی افواج کے بدترین ثابت ہوا ہے۔

ابھی تک اس دھماکے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی۔ قندھار کو طالبان کا گڑھ سمجھا جاتا ہے اور رواں برس اس شہر میں کئی حملے بھی ہوئے ہیں۔

بعض اطلاعات کے مطابق بم ایک سے زیادہ تھے جنہیں کاروں میں نصب کیا گیا تھا اور یہ بم بیک وقت پھٹے۔ ایک اطلاع کے مطابق دھماکے میں ٹرک یا ٹینکر کا استعمال کیا گیا۔

افغان پولیس

یہ دھماکہ قندھار میں صوبائی کونسل کے دفتر کے قریب ہوا جس کے نتیجے میں لوگ ملبے تلے دب کر رہ گئے۔ شہر میں اکثر مقامات پر کھڑکیاں دھماکے کی شدت سے بج گئیں۔ جہاں دھماکہ ہوا اس کے قریب کئی ہوٹل اور غیر سرکاری تنظیموں کے دفاتر ہیں۔

دھماکے سے جن عمارتوں کو نقصان پہنچا ان میں ایک شادی ہال اور جاپان کی ایک تعمیراتی کمپنی کا صدر دفتر شامل ہے۔

آغا لالی نے جو قندھار کی صوبائی کونسل کے رکن ہیں، اے ایف پی کو بتایا کہ ایسے لگا جیسے زلزلہ آ گیا ہو۔ بجلی بند ہوگئی اور ایک زور دار دھماکہ ہوا۔

پولیس کے نائب سربراہ محمد شیر شاہ کے مطابق ’انہوں نے نے ایک مرتبہ پھر بچوں، عورتوں اور معصوم افعانوں کو ہلاک کیا ہے۔ وہ انسان نہیں حیوان ہیں۔ اس دشمن نے جو تباہی پھیلائی ہے اس کی تصویر آپ خود دیکھ لیں۔‘