’فوجی حکمتِ عملی کامیاب نہیں‘

جنرل میک کرسٹل اپنی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ طالبان سے بات چیت کا عمل جاری رکھا جانا چاہیے۔
،تصویر کا کیپشنجنرل میک کرسٹل اپنی رپورٹ میں کہتے ہیں کہ طالبان سے بات چیت کا عمل جاری رکھا جانا چاہیے۔

اطلاعات کے مطابق افغانستان میں امریکہ کے ایک سینیئر جنرل نے ایک رپورٹ تیار کی ہے جس میں انہوں نے تسلیم کیا ہے کہ طالبان کے خلاف بین الاقوامی مخلوط حکمتِ عملی کامیاب نہیں ہے۔ یہ رپورٹ ابھی صدر براک اوباما کو بھیجی جانی ہے۔

ایک استعارہ استعمال کرتے ہوئے رپورٹ میں فوجی حکمتِ عملی کو اس بیل کی طرح قرار دیا گیا ہے جو بیل سے لڑنے والے (یعنی طالبان) پر حملہ آور ہے لیکن ہر زخم اسے کمزور کر رہا ہے۔

اس رپورٹ میں جو آج کل تیار ہو رہی ہے، جنرل سٹینلی میک کرسٹل کے مطابق افغان عوام کو طالبان سے بچانا امریکہ کی ترجیح ہونی چاہیے۔

ان کا خیال ہے کہ چونکہ طالبان کے خلاف جنگ سے ان کی زندگیوں میں کوئی بہتری نہیں آئی لہذا افغان عوام کا عالمی براداری پر اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔

جنرل میک کرسٹل یہ بھی چاہتے ہیں کہ طالبان سے بات چیت کا عمل بھی جاری رکھا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کو روزگار کے مواقع حاصل ہو جائیں تو ساٹھ فیصد مسائل ویسے ہی حل ہو جائیں گے۔ البتہ اس رپورٹ میں افغانستان میں مزید فوج بھیجنے کا مطالبہ نہیں کیا گیا۔

بی بی سی کے شمالی امریکہ کے ایڈیٹر مارک مارڈیل کا کہنا ہے کہ امریکی جرنیل نے جو استعارہ استعمال کیا ہے وہ اہم ہے کیونکہ عام طور پر امریکی کمانڈر ملکی فوج کے بارے میں اس قسم کی گفتگو نہیں کیا کرتے۔

افغان صورت حال پر جنرل میک کرسٹل کے بے لاگ تجزیے میں یہ بات بھی ہوگی کہ افغان عوام اعتماد کے بحران کا شکار ہیں کیونکہ طالبان کے خلاف جنگ جاری ہے لیکن افغان عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا۔

جنرل میک کرسٹل کا کہنا ہے کہ ہونا تو یہ چاہیے کہ افغان فوجی آگے بڑھیں اور فوج کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لیں لیکن ان کی فوج اگلے تین برس تک اس کے لیے تیار نہیں ہے اور پولیس کو ایسا کرنے کے لیے تو اور زیادہ وقت درکار ہوگا۔

رپورٹ میں ہے کہ طالبان کو افغان دیہات سے باہر نکالا جائے۔

مئی میں صدر براک اوباما کے اعلان کے بعد سے افغانستان میں تیس ہزار اضافی امریکی فوجی بھیجے گئے ہیں جس سے وہاں امریکی فوجیوں کی تعداد دگنی ہوگئی ہے اور مغربی افواج کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔

خیال ہے کہ جب جنرل میک کرسٹل کی رپورٹ صدر اوباما کی میز پر پہنچے گی تو انہیں افغانستان کی جنگ کے لیے کسی نئے وعدے کے مضمرات پر غور و غوض کرنا ہوگا کیونکہ امریکی رائے عامہ افغان جنگ کی حمایت سے دستبردار ہوتی جا رہی ہے۔

واشنگٹن پوسٹ اور اے بی سی نیوز کےایک مشترکہ جائزے کے مطابق صرف اننچاس فیصد امریکی یہ سمجھتے ہیں کہ افغانستان کی جنگ درست ہے۔