’یورینیم افزودگی آخری مرحلے میں‘

شمالی کوریا نے پچیس مئی کو جوہری تجربہ کیا تھا
،تصویر کا کیپشنشمالی کوریا نے پچیس مئی کو جوہری تجربہ کیا تھا

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق ملک اب یورینیم کی افزودگی کے آخری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔

جنوبی کوریا کی یونہاپ نیوز ایجنسی نے شمالی کوریا کی سرکاری میڈیا کے حوالے سے کہا ہے کہ یورینیم کی افزودگی سے متعلق تجربہ کامیاب رہا ہے اور اس کی تیاری اب آخری مرحلے میں ہے۔

اگر اس بات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے لائی جانے والی بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی ہو گی۔

مئی میں شمالی کوریا کے جوہری تجربے کے بعد اقوامِ متحدہ نے ملک کے خلاف سخت پابندیاں عائد کی تھیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ مئی دو ہزار نو اور سن دو ہزار چھ کو شمالی کوریا کی طرف سے کیے جانے والی جوہری تجربوں میں پلوٹونیئم سے تیار کردہ بموں کے دھماکے کیے گئے تھے۔

شمالی کوریا کی کے سی این اے نیوز ایجنسی کے مطابق اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے وفد نے سلامتی کونسل کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اقتصادی پابندیوں اور مذاکرات دونوں کے لیے تیار ہے۔

خط میں کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا میں فیول راڈوں کی تیاری آخری مرحلے میں ہے جبکہ پہلے سے حاصل شدہ پلوٹونیم سے ہتھیار تیار کیے جا رہے ہیں۔

’اگر سلامتی کونسل کے کچھ مستقل ارکان پابندیوں کو مذاکرات پر ترجیح دینا چاہتے ہیں تو ہم بھی اس کے ردِ عمل میں مذاکرات کی میز پر آنے سے پہلے اپنے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو مزید مستحکم کریں گے۔‘

جنوبی کوریا کے وزیر دفاع نے جون میں متنبہ کیا تھا کہ شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے سلسلے میں ایک قدم اور آگے بڑھتے ہوئے یورینیم کی افزودگی کے پروگرام پر کام کر رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کو طویل عرصے سے یہ شک تھا کہ شمالی کوریا یورینیم کی افزودگی کے پروگرام پر بھی کام کر رہا ہے۔

اس سے پہلے شمالی کوریا نے کہا تھا کہ وہ اقوامِ متحدہ کی جانب سے اس کے خلاف نئی پابندیوں کے نفاذ کے بعد اپنے پلوٹونیم ذخائر کو ’ہتھیاروں کی تیاری‘ میں استعمال کرےگا۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’پہلے حاصل کی جانے والی تمام پلوٹونیم کو ہتھیاروں کی تیاری میں استعمال کیا جائے گا اور اب تک استعمال شدہ فیول راڈز میں سے ایک تہائی کو ری پراسیس کیا جا چکا ہے۔ دوسرے مرحلے میں ہم یورنیم افزودہ کرنا شروع کریں گے‘۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق یہ پہلا موقع تھا کہ شمالی کوریا نے جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے لیے یورینیم افزودہ کرنے کا ارادہ بھی ظاہر کیا ہو۔

خیال رہے کہ پچیس مئی کو شمالی کوریا کی جانب سے جوہری تجربے کے بعد اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے اتفاقِ رائے سے شمالی کوریا کے خلاف مزید سخت پابندیوں کے نفاذ کی منظوری دی تھی۔ ان پابندیوں میں شمالی کوریائی بحری جہازوں کی تلاشی، شمالی کوریا کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی اور دیگر مالیاتی پابندیاں شامل ہیں۔

اقوامِ متحدہ میں امریکہ کی نائب سفیر روزمیری ڈی کارلو کے مطابق نئی پابندیوں کا متفقہ فیصلہ شمالی کوریا کے’ناقابلِ قبول رویے‘ کا مضبوط اور مشترکہ جواب ہے۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار جان سدورتھ کے مطابق شمالی کوریا کی جانب سے اس بات کا اعتراف کہ وہ یورنیم افزودہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے تشویش ناک بات ہے کیونکہ یہ عمل ایک چھوٹے ری ایکٹر میں بھی سرانجام دیا جا سکتا ہے اور اسے چھپانا بھی آسان ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ شمالی کوریا کےپاس اس وقت اتنی پلوٹونیم موجود ہے جس سے چھ سے آٹھ کے درمیان جوہری ہتھیار بنائے جا سکتے ہیں تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق شمالی کوریا ابھی تک ایسا چھوٹا جوہری وارہیڈ تیار کرنے میں ناکام رہا ہے جسے میزائل پر نصب کیا جا سکے۔

شمالی کوریا کا دعوٰی ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف دفاعی مقاصد اور امریکی حملے سے بچاؤ کے لیے ہے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ شمالی کوریا پر حملے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا اور اسے تشویش ہے کہ جوہری معلومات اور صلاحیتیں شمالی کوریا سے دیگر ممالک کو منتقل ہو سکتی ہیں۔