ایران کی نئی ’جوہری‘ تجاویز

گلین ڈیوس
،تصویر کا کیپشنواشنگٹن ایران کی کسی بھی پیشکش پر غور کرنے پر تیار ہے

ایران نے چھ بڑی عالمی طاقتوں کو اپنے متنازعہ جوہری منصوبے کے متعلق نئی تجاویز کا پیکیج پیش کیا ہے۔

ایران کے وزیرِ خارجہ منوچھر متکی نے کہا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ اس سے مذاکرات کے نئے دور کا آغاز ہو گا۔

اس سے قبل ویانا میں اقوامِ متحدہ کے جوہری ادارے انٹرنیشنل اٹامک اینرجی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکہ کے سفیر نے کہا تھا کہ ایران جوہری بم بنانے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ آئی اے ای اے میں امریکہ کے سفیرگلین ڈیوس نے کہا کہ ایران افزودہ یورینیم کو جمع کر رہا ہے۔

ایران ہمیشہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے۔

ویانا میں بی بی سی کی نامہ نگار بیتھنی بیل کے مطابق ایران کی تجاویز کا متن ابھی تک منظرِ عام پر نہیں آیا ہے اور اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ تجاویز کے بعد ایران پر مزید اقتصادی پابندیاں نہیں لگائی جائیں گی۔

محمد البرادعی
،تصویر کا کیپشنمحمد البرادعی کو ایران کے جوہری پروگرام پر تشویش ہے

ایران کا کہنا ہے کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے لیکن اس کا اس بات پر اصرار ہے کہ جوہری توانائی پیدا کرنا اس کا حق ہے۔

آئی اے ای اے میں امریکہ کے سفیر کا کہنا ہے کہ واشنگٹن ایران کی طرف سے آئی ہوئی کسی بھی آفر پر سنجیدگی سے غور کرے گا۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے خبردار کیا کہ ایران اگر اپنے پاس موجود کم افزودہ یورینیم پر مزید کام کرتا ہے تو وہ اس وقت کم از کم ایک جوہری بم بنا سکتا ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ محمد البرادعی کا کہنا ہے کہ ایجنسی کو ایران کے جوہری پروگرام کے متعلق کافی تشویش ہے لیکن ان کے انسپیکٹرز میں اس کے متعلق کوئی گھبراہٹ نہیں پائی جاتی۔