عراق دھماکوں میں پندرہ فوجی ہلاک

موصل
،تصویر کا کیپشنموصل میں شدت پسندانہ کارروائیوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے

عراق میں حکام کا کہنا ہے کہ شدت پسندوں کے قبضے سے پکڑے گئے بموں اور دوسرے اسلحے کو تلف کرنے کے لیے لے جاتے ہوئے اس کے پھٹنے سے کم از کم پندرہ فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔

یہ حادثہ شمالی عراق میں اس وقت پیش آیا جب ایک ٹرک میں پڑے بموں میں سے ایک بم پھٹ گیا اور اس طرح ادھر پڑے دوسرے اسلحے کو بھی آگ لگ گئی اور ٹرک میں بیٹھے فوجی ہلاک ہو گئے۔

یہ اسلحہ ٹرک کے ذریعے موصل کے مشرق میں بشکیا کے خالی علاقے کی طرف لے جایا جا رہا تھا۔

رہائشی علاقے سے دور اس جگہ پر عراقی فوجی اکثر قبضے میں لیا گیا اسحلہ تلف کرنے کے لیے لاتے ہیں۔

موصل ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں اب بھی مزاحمت کار شدت پسندانہ کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔

جمعرات کو بھی وہاں ایک فوجی اور تین سپاہیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ ماہ اگست میں پورے عراق میں تشدد بہت بڑھ گیا تھا اور ایک سال سے زائد عرصے میں وہاں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئیں۔

عراقی حکومت کا کہنا ہے کہ اس ایک ماہ میں 393 عام شہری ہلاک ہوئے جن میں سے 60 پولیس اہلکار اور فوجی تھے۔