’چند ایک نہیں پوری فوج سڑ چکی ہے'

ایک عراقی قیدی کے ساتھ برطانوی افواج کی بدسلوکی اور حراست کے دوران اس کی موت سے متعلق ایک عوامی تحقیقاتی ٹیم کو بتایا گیا ہے کہ برطانوی فوج کا یہ رویہ چند ایک فوجیوں تک محدود نہیں پوری فوج ہی اس ذہنیت کا شکار ہو چکی ہے۔
قیدیوں کے ساتھ سلوک اور فوج کے طریقۂ کار کے بارے میں یہ تحقیقات سر ولیم گیج کی سربراہی میں شہریوں پر مبنی ایک کمیٹی کر رہی ہے اور اس کی تفتیش کا مرکز بہا موسا کی موت تھی جو دوران حراست ہلاک ہو گیا تھا۔
مسٹر موسا کے وکیل رابندر سنگھ کا کہنا تھا ’یہ معاملہ محض کسی کی پٹائی یا پھر چند ایک برے لوگوں کا نہیں ہے۔ ایسا لگتا ہے پورے بیرل میں کوئی چیز گل سڑ گئی ہے‘۔
مسٹر سنگھ نے یہ بیان تفتیشی ٹیم کے سامنے دیا ہے ۔ تفتیشی ٹیم مسٹر موسا اور ان کے ساتھی قیدیوں کے ساتھ ہوئی بدسلوکی کے بارے میں بھی بیانات ریکارڈ کر چکی ہے۔ مسٹر سنگھ نے کہا کہ ’فوج معمول کے طور پر ممنوعہ تفتیشی طریقے استعمال کرتی ہے اور انہیں غیر قانونی نہیں سمجھتی‘۔
تفتیشی ٹیم کو دکھائی گئی ایک مختصر ویڈیو کلپ میں دکھایا گیا ہے کہ کس طرح فوجی ڈونلڈ پینی ایک عراقی قیدی کو، جن کے چہرے پر جھولے چڑھے ہوئے تھے، گالیاں دے رہا ہے اور ان کے لیے ’لنگور‘ کے نام سے پکار رہا ہے۔
سنہ دو ہزار سات میں ڈونلڈ پینی کو جنگی جرائم ميں مجرم قرار دیے جانے کے بعد فوج سے نکال دیا گیا تھا۔
پیر کو رابندر سنگھ نے تفتیشی ٹیم کو بتایا ' وڈیو ميں دکھائی گئی تمام حرکتیں غیر قانونی ہیں لیکن فوجی سرکاری پالیسیوں کے تحت کام کر رہے ہیں۔'
مسٹر موسا اور ان کے ساتھ نو دیگر شہریوں کو چودہ ستمبر دو ہزار تین کو بسرہ ہوٹل سے کوینس لینشائر ریجیمنٹ نے ہتھیار رکھنے کے الزام میں گرفتار کیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ہوٹل کے سٹاف نے کہا تھا کہ ہتھیار حفاظت کے لیے رکھے گئے ہيں لیکن اس کے باوجود انہيں باغی ہونے کے شک میں گرفتار کر کے رجمنٹ کے کیمپ لے جایا گیا تھا۔
دو روز بعد موسا کی موت ہو گئی تھی۔ اس کی پوسٹ مارٹم کی رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنا تھی اور ان کے جسم پر کم از کم 93 چوٹوں کے نشانات تھے۔
رابندر سنگھ کا کہنا تھا ' اس پورے واقع کی دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ کسی خفیہ مقام پر بند دروازوں کے پیچھے نہيں ہوا۔'
ان کا مزید کہنا تھا ' وقتی ڈیٹنسن سہولیات باہر والوں کے لیے بھی کھلی ہوئی ہوتی ہیں۔ کئی لوگوں نے دیکھا اور سنا ہوگا کہ اندر کیا ہو رہا ہے۔'
مسٹر موسا کی موت پر چھ مہینے تک مقدمہ چلا جس میں سات فوجیوں کا کورٹ مارشل ہوا۔ دوہزار سات میں ڈونلڈ پینی کو چھوڑ کر سبھی فوجی رہا ہو گئے۔ بین الاقوامی کرمنل کورٹ کے تحت ڈونلڈ پینی برطانیہ کے پہلے جنگی مجرم بنے۔
وزارت دفاع کے وکیل ڈیوڈ بار کے مطابق برطانوی فوجیوں کی جانب سے اس قسم کے برتاؤ سے فوج کا سر شرم سے جھک جاتا ہے۔ ' کسی بھی قسم کی زیادتی برداشت نہیں کی جائے گی۔ اس نے فوج کے وقار کو دھچکہ پہنچایا ہے۔'






















