افغان وزیر پر کار بم حملہ، 4 ہلاک

افغانستان کے وزیر توانائی محمد اسماعیل خان ملک کے مغربی حصے میں ایک کار بم حملے سے بچ نکلنے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اس حملے میں 4 شہری ہلاک جبکہ 17 زخمی بتائے جارہے ہیں۔
پولیس کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ وزیر توانائی ہی تھے۔ یہ حملہ ہرات میں ایک سکول کے باہر اس وقت کیا گیا جب محمد اسماعیل خان گاڑی پر ایئر پورٹ کی طرف جارہے تھے۔ اطلاعات کے مطابق طالبان کے ایک ترجمان نے ایک فون کال کے ذریعے حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
افغانستان میں تشدد آمیز واقعات میں اضافے کے باعث جمعہ کو امریکی کمانڈر نے مزید فوجی کمک کے لیے حکام کو باقاعدہ درخواست بھیجی ہے۔
جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے ماضی میں بھی کہا تھا کہ اگر انہیں مزید فوجی نہ فراہم کیے گئے تو افغانستان میں امریکی مشن کے ناکام ہونے کا خدشہ ہے۔
پولیس کے ایک ترجمان رؤف احمدی نے کہا ہے کہ اس حملے میں 17 افراد زخمی ہیں جن میں وزیر توانائی کے چار ذاتی محافظ بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محمد اسماعیل خان کو اس حملے میں نقصان نہیں پہنچا ہے اور وہ بحفاظت ایئر پورٹ پہنچنے میں کامیاب ہوگئے۔
ہلاک شدگان میں ایک خاتون اور ایک بچہ بھی شامل ہیں۔
اسماعیل خان شمالی اتحاد کے اہم رکن ہیں جنہوں نے 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی فوجیوں کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔
















