امریکہ پرحملہ، افغان شہری پر مقدمہ

نیویارک میں ایک افغانی نژاد امریکی شہری پر امریکہ پر حملے کی سازش کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
نیویارک کی گرینڈ جیوری میں چوبیس سالہ نجیب اللہ زازی پر وسیع تباہی کے ایک یا زیادہ ہتھیاروں سے امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔
نجیب اللہ زازی کو گزشتہ ہفتے سنیچر کے روز اپنے والد سمیت ریاست ڈینور سے گرفتار کیا گیا تھا۔
مسٹر نجیب اللہ زازی سن انیس سو ننانوے سے قانونی طور پر امریکہ میں مقیم ہیں اور انہوں نے مبینہ طور پر گزشتہ سال پاکستان سے بم بنانے کی تربیت حاصل کی تھی۔
ان کے ساتھ نیویارک سے گرفتار ہونے والے پیش امام احمد افضالی پر تفتیش کاروں سے جھوٹ بولنے کا الزام لگایا گیا ہے اور انہیں دس لاکھ ڈالر کی ضمانت پر رہا کر دیا گیا ہے۔
نجیب اللہ زازی کے والد محمد زازی کو پہلے ہی ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔
جسٹس ڈیپارٹمنٹ نے ان گرفتاریوں کے سلسلے ميں عدالت میں دیے گئے بیان میں کہا ہے ' امریکہ میں جدید ٹیکنالوجی والے دھماکہ خیز مادے کے ذریعے ایک حملے کی سازش کے سلسلے میں امریکہ، پاکستان اور دیگر مقامات پر ایف بی آئی تفتیش کر رہی تھی اور لوگوں سے پوچھ گچھ بھی کر رہی تھی۔'
امریکی ذرائع ابلاغ میں اس حوالے سے یہ اطلاعات آئی تھیں کہ تفتیش نیویارک میں کسی عام مقام پر ایک ممکنہ حملے پر مرکوز تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
قومی سلامتی کے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل ڈیوڈ کرس کے مطابق 'یہ گرفتاریاں تیز رفتار تحقیقات کا ایک حصہ ہیں۔' خبر رساں ایجنسی اے ایف پی سے بات چیت میں انہوں نے کہا 'یہ ایک اہم بات ہے کہ ممکنہ حملے کے بارے ميں ہمیں کچھ معلوم نہیں کہ وہ کہاں ہوگا، کب ہوگا اور اس میں کسے نشانہ بنایا جائے گا؟ '
جن دو افراد کو ڈین ور سے گرفتار کیا گیا ہے ان ميں ایک نجیب اللہ زازی اور ان کے والد شامل ہیں۔ نجیب اللہ زازی کو تفتیشی اہلکاروں نے تین روز کی پوچھ گچھ کے بعدگرفتار کیا ہے۔
اس سے قبل پچھلے ہفتے اہلکاروں نے زازی کے گھر کی تلاشی بھی لی تھی ۔ چوبیس سالہ زازی ہوائی اڈے پر شٹل ڈرائیور ہیں۔
زازی اور ان کے تریپن سالہ والد محمد زازی پیر کو کلاراڈو کی عدالت ميں پیش کیا گیا جبکہ نیویارک میں گرفتار کیے گئے احمد افضالی کو اسی روز نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔




















