افغانستان، امریکہ اور جنوبی وزیرستان

میک کرسٹل
،تصویر کا کیپشنافعانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل مزید فوجیوں کی درخواست کر چکے ہیں۔
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

وائٹ ہاؤس نے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ امریکی انتظامیہ افغانستان سے امریکی افواج واپس بلانے کی کسی تجویز پر غور نہیں کر رہی۔

یہ بات ایک ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب امریکہ میں افغانستان سے متعلق نئی پالسی بنانے پر بحث جاری ہے اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے افغانستان میں مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کل اپنی بریفنگ میں ان قیاس آرائیوں کو مسترد کردیا کہ افغانستان سے فوج واپس بلانے سے متعلق کوئی تجویز زیر غور ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ افغانستان سے متعلق مستقبل کی پالیسی سے متعلق صدر براک اوباما اپنے سینئر وزیروں اور مشیروں سے صلاح و مشورے کر رہے ہیں اور پالیسی کا جلد اعلان کیا جائے گا۔

صدر اوباما نے عہدہ سنبھالنے سے قبل ہی کہا تھا کہ عراق کی جنگ بلا وجہ تھی لیکن افغانستان کی جنگ ایک ضرورت کی جنگ تھی اور ذرائع کے مطابق وہ اب تک ایسا ہی سمجھتے ہیں تاہم اب وہ چاہتے ہیں کہ افغانستان سے متعلق جب تک واضح پالسیسی تشکیل نہیں دی جاتی اس وقت تک مزید فوجی بھیجنے کا فیصلہ نہیں کیا جا سکتا۔

افعانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل سٹینلے میک کرسٹل نے تقریباً دو ماہ قبل ایک رپورٹ وائٹ ہاؤس کو دی جس میں جنرل نے درخواست کی ہے کہ افغانستان میں مؤثر کارروائی کے لیے لگ بھگ چالیس ہزار مزید فوجی درکار ہیں۔

امریکی فوجی
،تصویر کا کیپشنریپبلکن پارٹی مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے کہ افغانستان مزید فوج بھیجی جائے

اس وقت افغانستان میں ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں لیکن سال رواں کے دوران امریکی فوجیوں پر طالبان کے حملوں میں شدید اظافہ ہوا ہے اور امریکہ کی وزارت دفاع پینٹاگون میں فوج بھیجنے کی تجویز زور پکڑ رہی ہے۔

امریکی حزب اختلاف کی ریپبلکن پارٹی مسلسل دباؤ ڈال رہی ہے کہ افغانستان مزید فوج بھیجی جائے ورنہ امریکی فوجیوں کی زندگیوں کو خطرہ ہوگا۔

لیکن فوج بھیجنے کے سوال پر اوباما انتظامیہ اختلافات کا شکار ہے۔ خاص طور پر نائب صدر جو بائیڈن، جو کہ روایتی طور پر جنگ مخالف لابی سے تعلق رکھتے ہیں، نہیں چاہتے کہ فوج بھیجی جائے۔

جنگ مخالف لابی کی دلیل ہے کہ مزید فوج بھیجنے سے افغانستان کی جنگ مزید پھیلے گی اور افغان عوام امریکیوں کو مدد کرنے والوں کے بجائے قابض اور جارح سمجھیں گے جس کی وجہ سے ان کی مخالفت میں اضافہ ہوگا۔

یہ لوگ چاہتے ہیں کہ بجائے فوج بھیجنے کے افغان قومی فوج میں اضافہ کیا جائے اور ان کو تربیت دی جائے جس طرح عراق میں کیا گیا ہے۔

امریکی فوج
،تصویر کا کیپشنافغانستان میں ساٹھ ہزار سے کچھ زیادہ امریکی فوجی تعینات ہیں۔

افغانستان کی جنگ کے لیے امریکی حمایت میں بھی کمی واقع ہوئی ہے اور تازہ ترین سروے کے مطابق تیس فیصد کے قریب امریکی اس جنگ کے حامی ہیں۔ براک اوباما یہ بھی نہیں چاہتے کہ وہ اپنے جنگ مخالف حامیوں کو ناراض کریں۔

امریکہ ان طالبان یا جنگجوؤں کو بھی اپنے ساتھ ملانا چاہتا ہے جو مسلح لڑائی بند کریں یا طالبان کے خلاف لڑنے کو تیار ہوں۔ ایسے جنگجووں کو پیسے دینے کی اجازت بھی دی گئی ہے۔

امریکہ کی ان تمام کوششوں میں پاکستان بہت اہم ہے۔ امریکہ سمجھتا ہے کہ افغانستان میں ہونے والے بیشتر حملوں میں وہ شدت پسند شامل ہیں جو پاکستان سے آتے ہیں اس لیے افغانستان میں حالات کی بہتری کا دارومدار اس پر بھی ہے کہ پاکستان شدت پسندوں کے خلاف اپنی کارروائی میں کامیاب ہو۔

اس پس منظر میں خطے سے متعلق پالیسی کا زیادہ تر دورمدار پاکستانی فوج کی جنوبی وزیرستان میں کامیابی پر منحصر ہے اور امریکی اس سلسلے میں ہر طرح کی مدد کو تیار ہیں۔