’بائیکاٹ کےباجود انتخابی نتائج قبول ہوں گے‘

امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نےکہا ہے کہ اگر افغانستان کے صدارتی امیدوار عبداللہ عبداللہ نے انتخاب کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تو بھی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کر لیا جائے گا۔
افغانستان کے صدارتی امیدوار ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے دھمکی دی ہے کہ اگر صدارتی انتخاب کے عمل کو شفاف بنانے کے اقدامات نہ کیے گئے تو وہ صدارتی الیکشن کے دوسرے راونڈ کا بائیکاٹ کریں گے۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ الیکشن کمشنر سمیت ایسے عہدیداروں کو ان کے عہدے سے ہٹایا جائے جنہوں نے پہلے راونڈ میں صدر کرزئی کے لیے دھاندلی کرائی تھی۔
توقع کی جا رہی کہ ڈاکٹر عبداللہ اتوار کے روز اپنے فیصلے کا اعلان کریں گے۔ افغانستان کے صدارتی انتخاب کا دوسرا مرحلہ سات نومبر کو ہونا طے ہے۔
ڈاکٹر عبد اللہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی دھاندلی کو روکنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیاگیا ہے اور موجودہ الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انتخاب میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے صدر حامد کرزئی کے لیے انتخابی دھاندلی کی وہ اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
ڈاکٹر عبد اللہ کا مطالبہ ہے کہ انتخابی کشمن کے سربراہ کو برطرف کیا جائے۔ حامد کرزئی نے الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ آ
انتخاب کے پہلے مرحلے میں ووٹوں کی ایک بڑی تعداد کی دوبارہ گنتی کروائی گئی اور انتخابی شکایات کمشن کے فیصلے کی روشنی میں صدارتی انتخاب کا دوسرا راونڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کی شرائط میں کئی پولنگ سٹیشنوں کو بند کرنے اور الیکشن کمشن کے سربراہ عزیزاللہ لدھن کو ان کے عہدے سے ہٹانے شامل ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ کا موقف ہے کہ الیکشن کمشنر عزیز اللہ لدھن کا اعتبار ختم ہو چکا ہے اور انہوں نے انتخاب کے پہلے مرحلے میں بھی حامد کرزئی کی حمایت کی تھی۔
مبصرین کا خیال ہے کہ ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کے انتخابی بائیکاٹ سے انتخابی عمل کی ساکھ کو شدید دھچکا لگے گا دوسرے راونڈ میں بہت ہی کم لوگ ووٹ ڈالیں گے۔ مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان پہلے ہی لوگوں کو ووٹ دینے سے منع کر رہے ہیں اور اگر عبداللہ عبداللہ نے ایسا ہی مطالبہ کیا تو پھر ووٹروں کی بہت کم تعداد ووٹ ڈالنے جائے گی۔
------
افغان صدر حامد کرزئی کے حریف ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ انتخاب کے دوسرے مرحلے کا بائیکاٹ کرنے والے ہیں۔
ڈاکٹر عبد اللہ عبد اللہ کے ایک مشیر نے بی بی سی کو بتایا ہےکہ ڈاکٹر عبداللہ انتخاب کے دوسرے مرحلے سے دستبردار ہونے والے ہیں۔ ڈاکٹر عبد اللہ سمجھتے ہیں کہ انتخابی دھاندلی کو روکنے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیاگیا ہے اور موجودہ الیکشن کمشنر کی موجودگی میں انتخاب میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔
ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے صدر حامد کرزئی کے لیے انتخابی دھاندلی کی وہ اب بھی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔
ڈاکٹر عبد اللہ کا مطالبہ ہے کہ انتخابی کشمن کے سربراہ کو برطرف کیا جائے۔ حامد کرزئی نے الیکشن کمشنر کو ان کے عہدے سے ہٹانے سے صاف انکار کر دیا ہے۔ آ
انتخاب کے پہلے مرحلے میں ووٹوں کی ایک بڑی تعداد کی دوبارہ گنتی کروائی گئی اور انتخابی شکایات کمشن کے فیصلے کی روشنی میں صدارتی انتخاب کا دوسرا راونڈ کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار اینڈریو نارتھ کے ڈاکٹر عبداللہ کے انتخاب سے دستبردار ہونے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ عبد اللہ عبداللہ اپنی شرائط نہ مانے جانے کی صورت میں سنیچر کے روز انتخاب سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیں گے۔
ڈاکٹر عبد اللہ عبداللہ کی شرائط میں کئی پولنگ سٹیشنوں کو بند کرنے اور الیکشن کمشن کے سربراہ عزیزاللہ لدھن کو ان کے عہدے سے ہٹانے شامل ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ کا موقف ہے کہ الیکشن کمشنر عزیز اللہ لدھن کا اعتبار ختم ہو چکا ہے اور انہوں نے انتخاب کے پہلے مرحلے میں بھی حامد کرزئی کی حمایت کی تھی۔




















