کوپن ہیگن میں معاہدہ کریں: بان کی مون

ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو
،تصویر کا کیپشندولتِ مشترکہ کا اجلاس ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوبیگو میں ہو رہا ہے

اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے عالمی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ اگلے ماہ کوپن ہیگن میں ہونے والے اجلاس میں موسمی تبدیلی سے متعلق معاہدے پر دستخط کر دیں۔

بان کی مون نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ معاہدہ قریب ہے اور کچھ ممالک نے گیسوں کے اخراج کو کم کرنے کے متعلق مثبت اقدام کیے ہیں۔

ڈنمارک کے وزیرِ اعظم لارز راس موسین نے کہا کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ان کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس میں ’پیسہ میز پر رکھا جائے گا۔‘

دونوں رہنما ٹرینیڈاڈ اور ٹوبیگو میں موسمی تبدیلی کے موضوع پر ہی ہونے والے دولتِ مشترکہ کے ایک اجلاس میں شرکت کر رہے تھے۔

سات دسمبر سے اٹھارہ دسمبر تک کوپن ہیگن میں ہونے والے اجلاس میں پوری دنیا سے آنے والے پچاسی عالمی رہنما موسمی تبدیلی پر بحث کریں گے۔

ملکہ الزبیتھ
،تصویر کا کیپشنبرطانیہ کی ملکہ نے اجلاس میں شرکت کرنے والوں کے اعزاز میں اعشائیہ دیا

بان کی مون نے دولتِ مشترکہ کے اجلاس میں کہا: ’ہمارا مشترکہ مقصد 2010 سے جتنا ممکن ہو پہلے قانونی طور پر سب پر لاگو ہونے والے موسمی معاہدے کے لیے ایک مضبوط بنیاد تیار کرنا ہے۔‘

راس موسین نے ترقی یافتہ ممالک سے کہا کہ وہ موسمی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے غریب ممالک کی مدد کے لیے پیسے فراہم کریں۔

یہ بیان برطانوی وزیرِ اعظم گورڈن براؤن اور فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی کے ترقی پذیر ممالک کے موسمی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اربوں ڈالر کے فنڈ کی تجویز کے بعد سامنے آیا۔

گورڈن براؤن نے کہا کہ دس ارب ڈالر کو ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے بھی استعمال کرنا چاہیئے کہ وہ گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی کر سکیں۔