افغانستان کے لیے نئی فوجی حکمت عملی

امریکہ کے صدر براک اوباما منگل کو افغانستان کے بارے میں نئی فوجی حکمت عملی کا اعلان کرنے والے ہیں اور اطلاعات کے مطابق اس نئی حکمت عملی کے تحت تیس ہزار مزید امریکی فوجیوں کو افغانستان میں تعینات کیا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق نئی حکمت عملی کے تحت جسے صدر اوباما نے کئی ماہ کی مشاورت اور غوروخوض کے بعد تیار کیا ہے افغانستان میں امریکی کمانڈروں کو احکامات جاری کر دیئے گئے ہیں۔

وائٹ ہاوس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا ہے کہ اتوار کی رات کو امریکی فوج کے اعلی کمانڈروں کو اس حکمت عملی کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔

انھوں نے کہا کہ اس کے بعد صدر اوباما نے برطانیہ، اٹلی، فرانس اور روس کے راہنماؤں سے بات چیت کی۔

برطانیہ پہلے ہی پانچ سو مزید برطانوی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کر چکا ہے۔

امریکی اخبارات میں اس حکمت عملی کے بارے میں شائع ہونے والی خبروں میں کہا جا رہا ہے کہ صدر اوباما منگل کو ایک نشری تقریر میں تیس ہزار کے مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کریں گے۔

اس وقت افغانستان میں ایک لاکھ غیر ملکی فوجی موجود ہیں جن میں سے امریکی فوجیوں کی تعداد اڑسٹھ ہزار ہے اور برطانوی فوج کی تعداد دس ہزار ہے۔

توقع ہے کہ اس نشری تقریر میں صدر اوباما امریکی عوام کو افغانستان میں امریکہ کی موجودگی کی ضرورت کے بارے میں آگاہ کریں گے اور ساتھ ہی اس امر کی طرف بھی اشارہ کریں گے کہ یہ سلسلہ کب تک جاری رہے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہا کہ صدر اوباما اپنے اتحادی ممالک کے سربراہوں سے بات چیت کے دوران انھیں نئی حکمت عملی سے آگاہ کریں گے لیکن انھیں اس بارے میں نہیں بتایا جائے گا کہ کتنے مزید فوجی افغانستان بھیجے جا رہے ہیں۔

افغانستان میں امریکی فوج کے سربراہ جنرل سٹینلے میکرسٹل نے چالیس ہزار مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا مطالبہ کیا تھا۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبز نے کہا کہ صدر اوباما نے اتوار کو رات گئے وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن سے غیر اعلانیہ ملاقات کی۔

بعد ازاں صدر اوباما نے وزیر خارجہ رابرٹ گیٹس اور قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز سے بات کی اور پھر افغانستان میں امریکی کمانڈر جنرل اسٹینلے میکرسٹل اور کابل میں امریکی سفیر کارل ایکنبری کو ویڈیو کانفرنس کال کی۔