دبئی بازارِ حصص میں مندی جاری

دبئی
،تصویر کا کیپشندبئی کی معیشت دو ہزار آٹھ کے آخر میں بری طرح متاثر ہوئی

دبئی اور ابوظہبی کے بازارِ حصص میں مندی کا سلسلہ جاری ہے اور لگاتار دوسرے دن سٹاک مارکیٹ کے انڈیکس میں واضح کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

پیر کو شدید مندی کے بعد منگل کو بھی دبئی اور ابوظہبی کے بازارِ حصص میں چھ فیصد کی کمی ہوئی ہے جبکہ قطر کا بازارِ حصص آٹھ اعشاریہ تین فیصد کمی کے بعد بند ہوا ہے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ہفتے دبئی کی حکومتی تحویل میں چلنے والے انویسٹمنٹ ادارے دبئی ورلڈ کی طرف سے قرضوں کی ادائیگی میں چھ ماہ کی مہلت طلب کرنے کے بعد پوری دنیا خصوصاً ایشیا کی بڑی حصص مارکیٹیں شدید مندی کا شکار ہوگئی تھیں۔

ادھر اس بحران کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ متحدہ عرب امارات کے سربراہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ریاست کی معیشت اچھی حالت میں ہے اور سرمایہ کاروں کو گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔

دریں اثناء انسٹھ ارب ڈالر کی مقروض کمپنی دبئی ورلڈ نے اپنے چھبیس ارب کے قرضے کی’ری سٹرکچرنگ‘ کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

دبئی ورلڈ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ’ کمپنی باقاعدگی سے رابطے کی پالیسی اپنانے کا ارادہ رکھتی ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ مزیں معلومات فراہم کرے گی اور.کمپنی کے مجوزہ ری سٹرکچرنگ منصوبے سے اس کی مرکزی تعمیراتی کمپنیاں متاثر ہوں گی تاہم اس کا اثر دیگر کمپنیوں پر نہیں پڑے گا جو کہ دبئی ورلڈ کے مطابق ’مالی طور پر مضبوط ہیں‘۔

گلف مینا آلٹرنیٹو انوسٹمنٹس کے سربراہ حسیم اعرابی نے اس بیان کو اچھی خبر قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق ’اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ (دبئی ورلڈ) اپنی ادائیگیوں کے معاہدے پر کاربند ہیں اور اس سے کمپنی کے دیوالیہ ہونے کے بارے میں تمام خدشات.ختم ہو گئے ہیں‘۔

دبئی ورلڈ کی جانب سے مہلت مانگے جانے کے بعد اتوار کو متحدہ عرب امارات کے مرکزی بینک نے ریاست میں کام کرنے والے تمام مقامی اور غیر ملکی بینکوں کو اضافی لیکیوڈٹی فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تاہم پیر کو دبئی کی حکومت نے یہ کہہ کہ خود کو اس معاملے سے الگ کر لیا تھا کہ وہ. دبئی ورلڈ کے قرضوں کی ضمانت نہیں دے سکتی۔ دبئی کے وزیرِ خزانہ عبدالرحمان الصالح نے کہا تھا کہ ’قرض دہندگان یہ سمجھ رہے ہیں کہ دبئی ورلڈ حکومت کا حصہ ہے جو کہ صحیح نہیں ہے‘۔

گزشتہ چھ برس سے زبردست ترقی کرنے والی دبئی کی معیشت دو ہزار آٹھ کے آخر میں بری طرح متاثر ہوئی۔ اسی کے سبب دبئی ميں پراپرٹی کی قیمتوں ميں زبردست گراوٹ درج کی گئی تھی۔