افغانستان سےانخلاء، امریکی وضاحت

جیمز جونز(فائل فوٹو)
،تصویر کا کیپشن’امریکہ پاکستان میں جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے‘
    • مصنف, جاوید سومرو
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، واشنگٹن

امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے کہا ہے کہ افغانستان پاکستان کے سرحدی علاقے میں واقع شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خاتمے سے پہلے امریکی افواج افغانستان سے نہیں جائیں گی۔

جمعہ کے روز واشنگٹن میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے جیمز جونز نے کہا کہ صدر براک اوباما کی افغانستان سے نکلنے سے متعلق تقریر سے غلط مطلب نکالا جارہا ہے کہ جولائی دوہزار گیارہ میں امریکی فوج افغانستان سے نکل آئے گی۔

صدر اوباما نے منگل کے روز نیویارک کی ویسٹ پوائنٹ فوجی اکیڈمی میں اپنی نئی افغان-پاکستان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ آئندہ چھ ماہ میں تیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجے جائیں گے جبکہ جولائی دوہزار گیارہ سے حالات میں استحکام پیدا کرنے کے بعد، امریکی فوج کا انخلاء شروع ہوجائے گا۔

لیکن صدر کی اس تقریر کے بعد امریکہ میں ریپبلکن قیادت نے اور افغانستان میں امریکہ کے اتحادیوں نے براک اوباما پر انخلاء کے اوقات کار دینے پر شدید تنقید کی ہے۔ اوباما کے نقاد کہتے ہیں کہ نکلنے کے حتمی تاریخ دینے سے شدت پسندوں کے حوصلے بڑہیں گے اور فوج کا مورال گر سکتا ہے۔

لیکن اس تنقید کے پس منظر میں، امریکی انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں نے صدر اوباما کے بیان کی تشریح کرنا شروع کردی ہے اور اس تاثر کو ذائل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ صدر نے کوئی حتمی تاریخ دی تھی۔

ایک روز قبل امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس اور وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے بھی یہی موقف اختیار کیا تھا۔

قومی سلامتی کے مشیر جیمز جونز نے بریفنگ میں چند بنیادی مقاصد کا ذکر کیا اور کہا کہ ان کے حصول کے بعد ہی انخلاء ممکن ہوگا۔ جن مقاصد کا ذکر جونز نے کیا ان میں سر فہرست ’پناہ گاہوں‘ کا خاتمہ تھا لیکن دیگر مقاصد میں انہوں نے کہا کہ عام لوگوں کو تحفظ کا احساس، معاشی ترقی اور اوپر سے نچلی سطح تک اور اچھی اور قابل اعتماد حکومتوں کا قیام شامل ہے۔

پاکستان سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں، امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر نے کہا کہ امریکہ کی نئی پالیسی میں پاکستان میں استحکام پر بھی خاص توجہ دی جائے گی اور پاکستان کی شدت پسندی کے خلاف لڑائی میں خاطر خواہ معاونت کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اب صرف افغانستان میں خطرات کی بجائے پورے خطے کو درپیش خطرات پر توجہ دے رہا ہے۔

یاد رہے کہ جیمز جونز نے ایک روز قبل ہی سی این این کے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان ایک نیوکلیئر ملک ہے اور ظاہر ہے اس بات پر کبھی تشویش ہوتی ہے کہ یہ ہتھیار کہیں شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات بہت مثبت ہیں اور ان کا مستقبل روشن ہے۔ جیمز جونز نے کہا کہ امریکہ پاکستان میں جمہوری عمل کی حمایت کرتا ہے اور چونکہ اس ملک کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اس لئے اس پر انتہائی زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور پاکستان اپنی اس ذمہ داریوں سے واقف ہے۔