نیٹو فوج میں اضافے کا خیر مقدم

امریکی وزیرِ خارجہ نے معاہدۂ شمالی اوقیانوس کی تنظیم ’نیٹو‘ کی جانب سے افغانستان میں موجود امریکی فوج کی مدد کے لیے کم از کم مزید سات ہزار فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کا خیر مقدم کیا ہے۔
برسلز میں نیٹو وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر امریکی وزیرِ خارجہ ہلیری کلنٹن نے کہا نیٹو ممالک کی جانب سے اس قابلِ ذکر وعدے پر انہیں خوشی ہوئی ہے۔
انہوں نے نیٹو ممالک سے کہا کہ وہ افغانستان کے لیے نئی امریکی پالیسی کی حمایت کریں تاکہ مزاحمت کاروں سے نمٹا جائے اور اس کام کو مل کر پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ ’یہ تاریخ کے سب سے بڑے اور کامیاب ترین فوجی اتحاد نیٹو کے لیے ایک اہم امتحان ہے۔ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنے عزم پر قائم رہیں اور اس مشن کو مکمل کریں‘۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’وہاں(افغانستان میں) مزید فوج کی فوری ضرورت ہے لیکن وہ وہاں غیر معینہ مدت تک نہیں رہے گی‘۔
اس سے قبل صحافیوں سے بات کرتے ہوئے تنظیم کے سیکرٹری جنرل آندریز فو رسموسن کا کہنا تھا کہ سنہ 2010 میں کم از کم پچیس ممالک افغانستان میں تنظیم کے مشن میں شمولیت کے لیے کم از کم سات ہزار فوجی روانہ کریں گے۔

وزرائے خارجہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نیٹو کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ آنے والے برس میں ’مشن میں نئی تیزی دیکھنے کو ملے گی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اب تک سامنے آنے والے وعدوں کے علاوہ ہمیں ایسے اشارے ملے ہیں کہ دیگر اتحادی اور ساتھی ممکنہ طور پر آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں اپنی مدد کا اعلان.کرنے کی حالت میں ہوں گے‘۔
خیال رہے کہ کئی بڑے یورپی ممالک اس آٹھ سالہ لڑائی میں مزید فوج بھیجنے سے گریزاں ہیں اور اب تک فرانس اور جرمنی کی جانب سے مزید فوج افغانستان روانہ کرنے کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔
جرمنی کی پارلیمان نے اپنی حکومت کو افغانستان فوج بھیجنے کے اجازت نامے میں ایک سال کی توسیع تو کر دی ہے لیکن اس نے فوجیوں کی تعداد کی حد چار ہزار پانچ سو سے بڑھانے سے انکار کر دیا ہے۔ تاہم اٹلی کے وزیر دفاع نے جمعرات کو ایک اخبار کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ وہ مزید ایک ہزار فوجی افغانستان روانہ کریں گے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
امریکی صدر براک اوباما نے چند روز قبل نئی افغان پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے تیس ہزار مزید امریکی فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔ اپنی فوج میں اس اضافے کے ساتھ ساتھ امریکہ نیٹو ممالک سے چاہتا ہے کہ وہ بھی مزید دس ہزار فوجی افغانستان بھیجیں۔




















