بغداد:دو کار بم دھماکے، ایک سو تیس ہلاک

عراقی حکام کے مطابق دارالحکومت بغداد میں ہونے والے دو کار بم دھماکوں میں کم از کم ایک سو تیس افراد ہلاک اور پانچ سو زخمی ہوگئے ہیں۔
یہ جولائی میں امریکی فوج کی جانب سے عراقی شہروں کا کنٹرول مقامی فورسز کے حوالے کیے جانے کے بعد ایک دن میں ہونے والی سب سے زیادہ ہلاکتیں ہیں۔
<link type="page"><caption> بغداد دھماکوں کے بعد: تصاویر</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2009/10/091025_baghdad_pics_sen.shtml" platform="highweb"/></link>
بغداد کے وسط میں مقامی وقت کے مطابق ساڑھے دس بجے ہونے والے بم دھماکوں کا ہدف صوبائی حکومت اور وزارت قانون کے دفاتر تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ دھماکوں سے وزارتِ قانون کی عمارت اور گورنر سیکرٹیریٹ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
عراقی حکومت کے ترجمان علی الدباغ کے مطابق یہ القاعدہ یا سابق صدر صدام حسین کی بعث پارٹی کا کام ہو سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ابتدائی تفتیش سے اس حملے میں القاعدہ اور بعث پارٹی کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں‘۔. تاہم بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ اس حملے کے پیچھے کس کا ہاتھ ہےْ۔

بغداد سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق وہ دھماکے کی جگہ سے اگرچہ کچھ کلومیٹر دور تھے لیکن انھوں نے دھماکوں کی شدت کو محسوس کیا۔ بغداد گورنریٹ میں ملازم ایک عینی شاہد چوبیس سالہ یاسمین افضال نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ ’دھماکے سے دیواریں گر گئیں اور ہمیں بھاگ کر باہر آنا پڑا‘۔.
دھماکے کے فوراً بعد بغداد کے سب سے محفوظ علاقے گرین زون کے قریب سے دھویں کے بادل اٹھتے دکھائی دیے۔ اس جگہ کے قریب عراق کی متعدد وزارتوں کے دفاتر موجود ہیں۔ نامہ نگاروں کے مطابق رواں سال انیس اگست کو اسی علاقے میں موجود وزارتوں کے دفاتر کو دو خودکش ٹرک حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا جن میں سو افراد مارے گئے تھے۔ عراقی حکام کے مطابق اس حملے میں غیر ملکی شدت پسند ملوث تھے۔

















