آسڑیلیا: فنکاروں کو ویزہ دینے سے انکار

آسڑیلوی حکومت نے شمالی کوریا کے پانچ فنکاروں کو ویزہ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ آرٹ شو شمالی کوریا کی پراپیگینڈے مشین کا حصہ ہے جو قابل قبول نہیں ہے۔
آرٹ شو کے پرموٹرز کا کہنا ہے کہ آرٹسٹوں کو ویزہ نہ دینے کا مطلب دنیا کے سب سے قدیم معاشرے کو کھو دینے کی ایک کوشش ہے۔
آسٹریلیا کے شہر کوئینز لینڈ میں ہونے والے آرٹ شو میں شمالی کوریا کے پانچ آرٹسٹوں کو اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کی دعوت دی گئی تھی۔آسٹریلوی وزیر خارجہ سٹیفن سمتھ نے شمالی کوریا کے آرٹسٹوں کو ویزہ نہ دینےکا ذمہ دار اقوام متحدہ کی جانب سے شمالی کوریا کے نیوکلئیر پروگرام کو بند نہ کرنے کے خلاف عائد کی جانے والی پابندیوں کو قرار دیا۔
آسٹریلوی وزارت خارجہ کے بیان کےمطابق شمالی کوریا کےآرٹ سٹوڈیو کی جانب سے پیش کیا جانے والا کام شمالی کوریا کی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے پراپیگینڈے کی حمایت کرتا ہے۔
چند ممالک نے شمالی کوریا کےساتھ ثقافتی رابطوں کو برقرار رکھا ہوا ہے جیسے کہ نیو یارک کے فیلامارنک اوکیسٹرا نے پچھلے برس شمالی کوریا کا دورہ کیا تھا۔شمالی کوریا کی حکومت نے انٹرنیٹ، فون، ریڈیو اور ٹی وی پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔
چینی نثراد برطانوی بزنس مین نک بونر نے کہا کہ شمالی کوریا کے تمام آرٹ سٹوڈیوز سخت گیر کیمونسٹ ریاست کی طرح حکومتی ادارے ہیں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کا ہر کام سیاسی ہو۔
خیال رہے کہ امریکہ کے نمائندہ خصوصی سٹیفن بوسوورتھ جو شمالی کوریا کے دورے پر ہیں نے کہا کہ ان کے دورے کا مقصد شمالی کوریا کو اس کے جوہری پروگرام کو بند کرنے کے لیے مذاکرات پر آمادہ کرنا ہے۔
.
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی




















