الزامات سیاسی سازش ہیں: چین

ماحولیاتی اجلاس
،تصویر کا کیپشنبیجنگ میں دفترِ خارجہ کی ترجمان جیانگ یو کا کہنا تھا کہ برطانوی الزامات ان رہنماؤں کی سیاسی سازش ہے جنھوں نے خود اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے۔

چین نے برطانیہ کے اِن الزامات کو مسترد کردیا ہے کہ بیجنگ نے کوپن ہیگن میں ماحولیات پر ہونے والی کانفرنس کو سبوتاژ کیا اور کہا ہے کہ ان الزامات کے پیچھے سیاسی عزائم کارفرما ہیں۔

چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین نے عالمی حدت میں کمی پر معاہدے کی خاطر بہت محنت کی لیکن وہ برطانوی سیاست دان جو ’الٹی سیدھی‘ باتیں کر رہے ہیں، دراصل اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔

پیر کو برطانیہ میں ماحولیات کے وزیر ایڈ ملیبینڈ نے چین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے کوپن ہیگن کانفرنس کو یرغمال بنا لیا اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق ان معاہدوں کو ویٹو کر دیا جنھیں عمومی عالمی حمایت حاصل تھی۔

بیجنگ میں دفترِ خارجہ کی ترجمان جیانگ یو کا کہنا تھا کہ برطانوی الزامات ان رہنماؤں کی سیاسی سازش ہے جنھوں نے خود اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے۔

کوپن ہیگن کانفرنس ایک سو بانوے اقوام کے نمائندوں کی شرکت کے باوجود کسی معاہدے کے بغیر اختتام کو پہنچی تھی۔

مندوبین نے صرف یہی کہا کہ وہ اس معاہدے کے نوٹس لیں گے جس میں درجۂ حرارت کو دو درجے کم کرنے کی اہمیت اجاگر کی جائے گی۔

جیانگ یو نے برطانیہ کے وزیرِ ماحولیات کا نام تو نہیں لیا لیکن چین کی سرکاری خبررساں ایجنسی زینوا پر نشر ہونے والے تبصرے میں انھوں نے کہا کہ برطانیہ کے کچھ سیاست دانوں کے بیانات ’ایک سیاسی سازش تھی۔‘

ترجمان نے کہا کہ ان بیانات کا مقصد ترقی پذیر ملکوں میں افتراق کے بیج بونا اور اپنی ذمہ داریوں سے بھاگنا ہے۔ لیکن جیانگ یو نے کہا ’یہ سازشیں اپنی موت آپ مر جائیں گی۔‘

اتوار کو برطانوی اخبار گارڈین میں ماحولیات کے وزیر مسٹر ملیبینڈ نے لکھا تھا کہ دنیا کے اکثر ممالک چاہتے تھے کہ زمین کو بچانے کے لیے ایک ایسا معاہدہ ہو جائے کہ جس پر عمل درآمد کے تمام فریق قانونی طور پر پابند ہوں لیکن ’ایسا لگتا ہے کہ کوپن ہیگن کانفرنس میں شریک چار یا پانچ ملک چاہتے تھے کہ یہ معاہدہ طے نہ پائے‘۔

انھوں نے مزید لکھا کہ چین نے زہریلی گیسوں کے اخراج کے بارے میں دو مجوزہ معاہدوں کو ویٹو کر دیا جن کو مجموعی طور پر چند ترقی یافتہ ممالک اور بہت سے ترقی پذیر ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔

بیجنگ میں بی بی سی کے نامہ نگار مائیکل برسٹو کے مطابق چین کا کہنا ہے کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ کوپن ہیگن مذاکرات میں شریک ہوا تھا اور اس نے وہاں اہم تجاویز بھی دیں لہذا وہ نہیں چاہتا کہ دنیا یہ کہے کہ کوپن ہیگن میں معاہدہ چین کی وجہ سے نہیں ہو سکا۔

چین اور ترقی پذیر ممالک عرصۂ دراز سے دنیا کے امیر ملکوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ کبھی بھی زہریلی گیسوں کے اخراج کی زیادہ مقدار روکنے کی پیشکش نہیں کرتے اور نہ ان اقوام کو کسی مدد پر تیار ہوتے ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی سے نبرد آزما ہیں۔