موسمی تبدیلی: ’لوگوں کی مایوسی بجا ہے‘

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ کوپن ہیگن میں موسمی تبدیلی پر ہوئی بین الاقوامی کانفرنس کے نتائج پر لوگوں کی مایوسی بجا ہے۔
ایک ٹی وی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ اس عالمی کانفرنس میں کم از کم ماضی میں لی گئی پوزیشن سے زیادہ نہیں ہٹے اور یہ بہتر ہے بہ نسبت کے مذاکرات پوری طرح ناکام ہو جاتے۔
’میرے خیال میں کوپن ہیگن میں ہوئی کانفرنس کے حوالے سے لوگوں کی مایوسی درست ہے۔ لیکن کوپن ہیگن میں مذاکرات کے مکمل ناکام ہونے سے ہم موجودہ پوزیشن سے بہت پیچھے ہو جاتے۔ کوپن ہیگن مذاکرات کے نتائج سے کم از کم ہم اپنی پہلی پوزیشن سے پیچھے کی جانب نہیں گئے۔‘
واضح رہے کہ سویڈن کے وزیر ماحولیات آندریز کارلگرین نے کوپن ہیگن سربراہ اجلاس کو ایک آفت اور اس سے پہلے ہونے والے مذاکرات کو ناکام قرار دیا۔
ان کا کہنا تھا ’ہم یہاں اسی لیے اکٹھے ہوئے ہیں کہ کوپن ہیگن میں آنے والی آفت کا حل تلاش کریں۔ سربراہ اجلاس اور اس موقع پر ہونے والے مذاکرات ایک عظیم ناکامی ہے اور ہمیں اس سے بھی سبق سیکھنا چاہیے۔ یورپی ممالک میں اس معاملے پر کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا لیکن کچھ ملک عملی اقدام کرنا ہی نہیں چاہتے، جیسے امریکہ اور چین۔‘
اجلاس میں معاہدے میں اتفاق کیا گیا کہ عالمی درجہ حرارت کو دو ڈگری سیلسئس سے زیادہ نہیں بڑھنے دیا جائے گا لیکن اسے لاگو کرنے کے لیے کوئی قانونی طریقہ وضع نہیں کیا گیا۔ اجلاس ختم ہوتے ہی مندوبین نے اس کی ناکامی کا الزام ایک دوسرے کو دینا شروع کر دیا۔ برطانیہ نے چین پر الزام عائد کیا کہ اس نے کوپن ہیگن کانفرنس کو یرغمال بنا لیا اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق ان معاہدوں کو ویٹو کر دیا جنھیں عمومی عالمی حمایت حاصل تھی۔
ادھر چین نے برطانیہ کے اِن الزامات کو مسترد کردیا تھا کہ بیجنگ نے کوپن ہیگن میں ماحولیات پر ہونے والی کانفرنس کو سبوتاژ کیا اور کہا ہے کہ ان الزامات کے پیچھے سیاسی عزائم کارفرما ہیں۔
چین کی وزارتِ خارجہ نے ایک بیان میں کہا کہ چین نے عالمی حدت میں کمی پر معاہدے کی خاطر بہت محنت کی لیکن وہ برطانوی سیاست دان جو ’الٹی سیدھی‘ باتیں کر رہے ہیں، دراصل اپنی ذمہ داریوں سے فرار اختیار کر رہے ہیں اور ترقی پذیر ممالک میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں۔ پیر کو برطانیہ میں ماحولیات کے وزیر ایڈ ملی بینڈ نے چین پر الزام عائد کیا تھا کہ اس نے کوپن ہیگن کانفرنس کو یرغمال بنا لیا اور زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق ان معاہدوں کو ویٹو کر دیا جنھیں عمومی عالمی حمایت حاصل تھی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
بیجنگ میں دفترِ خارجہ کی ترجمان جیانگ یو کا کہنا تھا کہ برطانوی الزامات ان رہنماؤں کی سیاسی سازش ہے جنھوں نے خود اپنی ذمہ داریوں سے پہلو تہی کی ہے۔
تاہم بھارت نے اعتراف کیا ہے کہ ڈنمارک کے شہر کوپن ہیگن میں ہونے والی بین الاقوامی موسمی کانفرنس میں اس نے چین، برازیل اور جنوبی افریقہ کے ساتھ مل کر زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق معاہدے کو کامیابی سے روکا۔
بھارت کے وزیر برائے ماحولیات جے رام رمیش نے منگل کو پارلیمنٹ کو بتایا کہ زہریلی گیسوں کے اخراج سے متعلق معاہدے کو کامیابی سے رکوا کر بھارت نے اپنے تحفظات کا دفاع کیا ہے۔
ماحولیات کے وزیر کا کہنا تھا کہ یہ چار ممالک اس کانفرنس میں مذاکرات کے دوران ایک مضبوط قوت کے طور پر سامنے آئے۔
چین اور ترقی پذیر ممالک عرصۂ دراز سے دنیا کے امیر ملکوں پر یہ الزام لگاتے ہیں کہ وہ کبھی بھی زہریلی گیسوں کے اخراج کی زیادہ مقدار روکنے کی پیشکش نہیں کرتے اور نہ ان اقوام کو کسی مدد پر تیار ہوتے ہیں جو ماحولیاتی تبدیلی سے نبرد آزما ہیں۔
کوپن ہیگن کانفرنس ایک سو بانوے اقوام کے نمائندوں کی شرکت کے باوجود کسی معاہدے کے بغیر اختتام کو پہنچی تھی۔ مندوبین نے صرف یہی کہا کہ وہ اس معاہدے کے نوٹس لیں گے جس میں درجۂ حرارت کو دو درجے کم کرنے کی اہمیت اجاگر کی جائے گی۔







