’بگرام میں شدید نفسیاتی تشدد کیا گیا‘

- مصنف, حسن مجتبیٰ
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے امریکی عدالت میں اپنے دفاع میں گواہی دیتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر گولی نہیں چلائي تھی بلکہ زندگی میں انہوں نے رائفل پہلی بار عدالت میں پیش ہوتے وقت دیکھی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان کو خفیہ جیل میں قید رکھا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ خفیہ جیل میں واپس بھیجے جانے کے خوف میں وہ افغانستان کے شہر غزنی میں جیل کے کمرے میں جب پردے کے پیچھے سے آنے والے امریکیوں کو دیکھنے کے لیے آگے بڑہیں تو ان میں سے ایک شخص نے کہا ’وہ کھلی ہے‘ اور دوسرے نے مجھ پر فائر کردیا۔
یہ بات ڈاکٹر عافیہ صدیقی جمعرات کی دوپہر نیویارک میں مینہیٹن کی وفاقی عدالت یو ایس ڈسٹرکٹ کورٹ کے کھچا کھچ بھرے کمرہِ عدالت کے سٹینڈ پر ان کے خلاف امریکی حکومت کے قائم کردہ مقدمے میں ان پر لگے الزامات کے دفاع میں اپنا بیان دے رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ انہیں لگنے والی تین گولیوں سے ایک سے زائد زخم پہنچے لیکن ان زخموں کے علاوہ انہیں سر سے ایڑیوں تک کئي زخم پہنچائے گئے تھے اور بگرام میں قید کے دوران ان پر انتہائي جذباتی اور نفسیاتی ٹارچر کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے خاص طور پر ایک ایف بی آئي اے ایجنٹ کا امریکی عدالت میں نام لیتے ہوئے کہا کہ ’مسٹر بروس‘ نے بگرام میں ان پر ’پیورلی اموشنل سائکولوجیکل ٹارچر‘ کیا تھا۔
انہوں نے کہا ’اسی طرح یہ لوگ معصوم لوگوں کو پھنساتے ہیں اور تم لوگ یہاں ان پر عدالتوں میں الزام لے آتے ہو۔ اسی طرح کچھ لوگ جنگ کرتے ہیں اور خفیہ جیلیں چلاتے ہیں۔‘
ڈاکٹر عافیہ نے اپنی وکیل ایلین شارپ کے سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ وہ کراچي میں پیدا ہوئی تھیں۔ انہوں نے کہا کراچی پاکستان کا نیویارک ہے اور وہ نیویارک اور کراچي دونوں سے محبت کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنی زندگي کے شروع والے سال اپنے والد کے کام کے سلسلے میں زمبابوے میں بڑی ہوئيں اور بارہویں جماعت تک تعلیم کراچي میں حاصل کرنے کے بعد وہ امریکہ کے شہر ہیوسٹن آگئیں۔ ٹیکساس یونیورسٹی میں کمیسٹری اور سائنس کے دیگر مضامین پڑھنے کے بعد وہ امریکہ کے مشہور کالج مساچیوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی (ایم آئي ٹی) سے گریجوئیشن کیا کیونکہ سماجی علوم اور انتھوپالاجی ان کے پسندیدہ مضامین تھے اور انڈر گریجوئیشن کا ایک سال انہوں نے مشہور امریکی دانشور اور ماہر لسانیات پروفیسر نوم چومسکی کی زیر نگرانی بھی کام کیا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے افغانستان میں اپنی گرفتاری اور مقدمے میں ان سے مبینہ طور جوڑے جانے والے واقعے کے متعلق سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ وہ افغانستان میں خفیہ جیل میں تھیں جہاں انہیں ٹارچر کیا جاتا تھا اور پھر انہیں ایک اور عمارت میں منتقل کیا گیا تھا۔ یہ عمارت بھی جیل ہی تھی۔ اس عمارت میں انہوں نے باتیں سنی تھیں کہ انہیں دوبارہ کہیں منتقل کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں ایک کمرے میں رکھا گیا تھا جس کے بیچ میں ایک پردہ تھا۔ پردے کی دوسری طرف انہوں نے امریکیوں کے آنے کی آوازيں سنی تھیں۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے کہا کہ امریکیوں کے کمرے میں آنے پر انہیں ڈر تھا کہ انہیں پھر خفیہ جیل منتقل کیا جائے گا کیونکہ ان کے کانوں پر بار بار لفظ ’ڈیٹینی‘ یا نظربند پڑ رہا تھا جبکہ اس کمرے اور عمارت میں وہ فقط واحد ’ڈیٹینی‘ تھیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ وہ اس سمت بڑھیں جہاں سے امریکیوں کے آنے کی آوازیں آرہی تھیں۔ ان میں سے ایک فوجی نے کہا کہ ’وہ لوز (کھلی ) ہیں‘ تو دوسرے نے اپنے پستول سے گولی چلادی۔ انہوں نے کہا کہ پیٹ میں کوئي چیز لگی اور اس جگہ پر ان کو گرم محسوس ہوا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا خون بہہ رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ایک سے زیادہ گولیاں ماری گئيں اور وہ فرش پر گر پڑی تھیں۔
ڈاکٹر عافیہ نے ایک موقع پر امریکی حکومتی وکیل کی جرح کے دوران اس سوال پر کیا امریکیوں نے ان کا علاج نہیں کیا تھا، انہوں نے کہا انہوں نے ان کے زخمی ہونے کے باوجود انہیں فرش پر پٹخا تھا۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہیلی کاپٹر میں بگرام لایا گيا تھا جہاں پر ایک مرد ایف بی آئي ایجنٹ ان کے کمرے میں رات کے وقت موجود رہتے تھے اور ان پر نفسیاتی اور جذباتی تشدد کیا کرتے تھے۔
انہوں نے کہا کہ وہ کوئي چيز کھانے اور باتھ روم تک ان کی مرضی کے بغیر نہیں جاسکتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ایف بی آئي کی خاتون ایجنٹ انجیلا جو ہمیشہ ان کے کمرے میں دن کے وقت رہتی تھیں کا ان سے نہایت ہی اچھا سلوک تھا۔ ڈاکٹر عافیہ نے بگرام میں ایک امریکی نرس ایریکا کی تعریف کی اور کہا کہ ’میں نے سوچا تھا کہ میں جب اپنے بارے میں کتاب لکھوں گي تو اس میں ایریکا نرس کی ضرور تعریف کروں گی لیکن اب نہیں لگتا میں کتاب لکھوں گي اسی لیے اس نرس کا ذکر عدالت میں کر رہی ہوں‘۔
تاہم انہوں نے کہا کہ بگرام میں کبھی بھی نہ کسی ایف بی آئي ایجنٹ یا پاکستانی حکومت کے نمائندے نے ان سے انٹرویو کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہاں کئي امریکی حکومتی اہلکار تھے لیکن وہ اپنی شناخت نہیں کراتے تھے بلکہ میرے سامنے آنے پر شناخت چھپاتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر انہیں واقعی خبر ہوتی کہ وہ ایف بی آئي ایجنٹوں سے بات کر رہی ہیں تو وہ اپنے بچوں کے بارے میں ضرور پوچھتی جن کے بارے میں وہ ہمیشہ پریشان رہتی تھیں۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے حکومتی خاتون وکیل جینا ڈیبس کی طرف سے ان پر جرح کے دوران سوالات کے جوابات دیتے ہوئے کہا کہ ’یہ اور بات ہے کہ مجھ سے میٹھی باتیں کرکے انہوں نے مجھ کو ’میس اپ‘ کیا ہو‘۔ انہوں نے امریکی حکومتی وکیل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ’اب میں سمجھی ہوں کہ کس طرح ایسے غلط لوگ معصوم لوگوں کو اپنی باتوں میں پھنساتے ہیں اور پھر تم جیسے لوگ ان پر عدالتوں میں ایسے الزامات لے آتے ہیں۔ایسے امریکہ مخالف لوگ جنگ کرتے ہیں اور خفیہ جیلیں چلاتے ہیں۔‘
انہوں نے کہا کہ ان کی بیٹی کے ساتھ جنسی زیادتی اور بچوں پر ٹارچر کرنے کی دھمکی دے کر ان سے مبینہ دستاویزات کا ترجمہ کروایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایسے لوگوں سے کہتی تھیں کہ وہ نقلی امریکی ہیں اور امریکہ مخالف کام کر رہے ہو جس کی وجہ سے امریکہ کے خلاف نفرت پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے عدالت میں سوال کیا ’جب آپ کے بچوں پر ٹارچر کی دھمکی دی جائے تو آپ کیا کریں گے؟‘
انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ بگرام میں سب امریکی ایجنٹ، نرسیں اور ڈاکٹر خراب نہیں تھے۔ انہوں نے حکومتی وکیل کے ایک سوال کے جواب میں کہا اسی لیے تو انہوں نے ایف بی آئے کے ایجنٹوں کو پیشکش کی تھی کہ وہ ان کی مدد کرنا چاہتی ہیں۔
انہوں نے اس کی بار بار تردید کی کہ انہوں نے امریکی اہلکاروں پر رائفل سے فائرنگ کی تھی یا انہوں نے کبھی عدالت سے پہلے کہیں رائفل دیکھی بھی تھی۔
ڈاکٹر عافیہ اپنے بیان کے دوران اکثر ہنسی مذاق کرتی رہیں اور کہا کہ دوران علاج ان کو خون ان کی مرضی کے بغیر دیا گيا تھا کیونکہ وہ خون کی منتقلی کے خلاف ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ ’مجھے جس نے بھی خون دیا ہے میں ان کو قتل کردوں گی جس پر امریکی ہسنتے تھے‘۔
انہوں نے سرکاری وکیل سے سوال کیا کہ اگر کوئی سرکاری خاتون اہلکار ان کے لیے سکارف اور قرآن لے آئے تو وہ اسے کیوں خراب سمجھیں گی۔
انہوں نے غزنی میں اپنی گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ لڑکے کے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’وہ لڑکا میرا بیٹا ہے یا نہیں میں نہیں جانتی‘۔
سرکاری وکیل نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو دوران جرح کمرہ عدالت کے سکرین پر مبینہ دستاویز دکھائے اور ان سے پوچھا کہ یہ دستاویز پر ان کی تحریر ہے اور اس دستاویز میں ڈرٹی بم بنانے کی ترکیب یا ہدایات ہیں، جس پر ڈاکٹر عافیہ نے کہا کہ وہ نہیں جانتی لیکن ان پر ٹارچر کے دوران ان سے کئي کاغذات انگریزی سے ترجمہ کرنے کو کہا گیا تھا‘۔
ڈاکٹر عافیہ کے خلاف امریکی حکومت کا مقدمہ جمعہ کے روز بھی جاری رہے گي۔





















