’عدالت بدر‘ کرنے کی درخواست مسترد

سماعت کے دوران ان کو پانچ سال خفیہ جیل میں رکھے جانے کا معاملہ نہیں اٹھایا جائے گا
،تصویر کا کیپشنسماعت کے دوران ان کو پانچ سال خفیہ جیل میں رکھے جانے کا معاملہ نہیں اٹھایا جائے گا
    • مصنف, حسن مجتبیٰ
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیویارک

نیو یارک کی ایک وفاقی عدالت نے استغاثہ کیطرف ڈاکٹر عافیہ کی کمرہ عدالت میں موجودگي کو روکنے کی درخواست کو مسترد کردیا۔

عدالت کے جج رچرڈ برمین نے اپنی رولنگ میں کہا کہ اگرچہ یہ درست ہے کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی دوران کارروائي عدالت میں برستی رہی ہیں لیکن دورانِ مقدمہ عدالت میں ان کی موجودگي ان کا بنیادی اورآئینی حق ہے اور ان کی کوشش ہوگي کہ ڈاکٹر عافیہ عدالت میں موجود رہیں۔ لیکن انہوں نے کہا کہ عدالتی کارروائي کے دوران برسنے پر ڈاکٹر عافیہ کو کمرہ عدالت سے نکالا جائےگا۔

’لیکن ان کے تمام تر ادھم مچانے کے باوجود انہیں عدالتی کارروائي سے ہمیشہ کے لیے نہ تو الگ کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی ان کو الگ کیا جائے گا۔‘

جج نے یہ بھی کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو اپنے دفاع کے تمام مواقع میسر ہیں اور کم از کم وہ اپنے ایک وکیل سے بات چیت بھی کرسکتی ہیں۔ ’ان کے دفاع میں وکلاء کی ایک قابل ٹیم ہے۔میں نے کہیں پڑھا ہے کہ حکومت پاکستان نے ان کے دفاع کے لیے لامحدود اخراجات ادا کیے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف مقدمہ پبلک مقدمہ ہے جسے سننے کے لیے کوئي بھی آسکتا ہے۔

جج کی رولنگ سنائے جانے کے بعد کمرہ عدالت میں موجود ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے جج سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ "میری جناب کو مودبانہ گزارش ہے کہ آپ جھوٹ بول رہے ہیں۔"

ادھر نیویارک کی مقامی میڈیا نے گزشتہ دن عدالتی کارروائي کے حوالے سے کہا ہے کہ جیوری اراکین میں سے دو اس لیے الگ ہوگئے تھے کہ عدالتی کارروائي سننے والے سامعین میں سے ایک شخص نے ان کی طرف اپنے ہاتھوں سے مبینہ طور پر دھمکی آمیز اشارے کیے تھے، جسکی وجہ سے سے وہ سمجھتے تھے کہ وہ مقدمے میں انصاف نہیں کر سکیں گے۔ مقامی میڈیا کی اسی رپورٹوں کے مطابق مبینہ شخص کو جو کہ اپنے ہاتھوں سے دو جیوری اراکین کو بندوق کا اشارہ کرتا پایا گیا تھا حراست میں لیے جانے کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

ادھر حکومت کی طرف سے استغاثہ نے افغانستان میں مبینہ واقعے کے آئینی گواہ کے طور پرایف بی آئي آے کے اسپیشل ایجنٹ ایرک میگران کی گواہی منگل کے روز بھی جاری رکھی اور انہوں نے اپنی گواہی کے دوران بتایا کہ ہوسکتا ہے کہ افغان اہلکاروں نے افغان نیشنل پولیس کے صدر دفاتر غزنی میں مبینہ واقعہ ایک 'سیٹ اپ' یا سازش ہو۔ ایف بی آئی کے اسپیشل ایجنٹ نے کہا کہ واقعے کے بعد افغان نیشنل پولیس کے اہلکاروں کے ہتھیار انکی طرف (کمپائونڈ میں موجود امریکییوں کیطرف) سیدھے ہوئے تھے اور وہ بہت غصے میں دکھائي دیتے تھے۔

استغاثہ نے منگل کے روز ڈاکٹر عافیہ صدیقی کیخلاف امریکی حکومت کی طرف سے ایجنٹ ایرک میگران سمیت پانچ گواہ پیش کیے جن میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکی سکیورٹی اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے کے الزام میں باقاعدہ افغانستان سے گرفتار کرکے ایف بی آئي کے خاص طیارے کے ذریعے نیویارک لے آنیوالی ایف بی آئي کی اسپیشل ایجنٹ مہتاب سید، امریکی فوج کےباوردی سارجنٹ فرسٹ کلاس کوک سارجنٹ ولیمز افغانستان میں متعین امریکی فوج کے مترجم احمد جاوید امین بھی شامل تھے۔

مترجم احمد جاوید امین عرف 'ڈیو' کی گواہی کے اختتام پر ڈاکٹر عافیہ صدیقی نے دوران کارروائي اٹھ کر مقدمہ سننے کے لیے کمرہ عدالت میں موجود سامعین سے مخاطب ہوکر کہا ’میں اس عدالت میں اب کبھی نہیں آؤں گی۔ آپ سب کو الوداع۔‘ ان کے یہ کہتے ہوئے وفاقی مارشلز انہیں کمرہ عدالت سے نکال کر لے گئے۔

ان کے اس طرح چلے جانے پر انکی دفاعی ٹیم سے وابستہ ایک رکن نے وضاحت کے طور پر بی بی سی اردو کو بتایا کہ کہ ان کے اس طرح چلے جانے سے اور واپس نہ آنے سے مقدمے میں نئے ایشو اٹھ سکتے ہیں۔

دوران جرح امریکی فوج کے سارجنٹ کوک نے کہا اسپیشل میڈک کارٹ مبینہ واقعے والے دن مبینہ کمرے میں نہیں بلکہ کمرے کے باہر انکے پیچھے موجود تھیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ دن اپنی گواہی کے دوران اسپیشل میڈک نے کہا تھا کہ وہ واقعے کے وقت کمرے میں موجود تھیں او ر انہوں نےڈاکٹر عافیہ صدیقی کو فوری طبی امداد دینے کے بعد اسٹریچر پر لائي تھیں جبکہ گواہ سارجنٹ ولیمز نے منگل کے روز اپنے بیان میں کہا کہ اسپیشل میڈک واقعے کے وقت کمرے میں نہیں بلکہ کمرے سے باہر انکے پیچھے کھڑی تھیں۔

استغاثہ نے منگل کے روز اپنے گواہ مکمل کر لیے ہیں اور توقع ہے کہ بدھ کی صبح استغاثہ کے وکلاء رسمی طور اپنی گواہی کے متعلق بیان جاری کریں گے جبکہ ڈاکٹر عافیہ کے دفاع کے وکلاء دفاع کی طرف سے گواہ اور گواہی پیش سے پیش کریں گے۔

ادھر ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان کی طرف سے ترجمان وکیل ٹینا فوسٹر نے عدالت کی عمارت کے باہر میڈیا سے بریفنگ میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ کے مقدمے میں دفاع کی گواہی کے دوران ان کی مبینہ طور پانچ سال خفیہ جیل میں رکھے جانے یا گمشدگي کا معاملہ نہیں اٹھایا جائے گا۔

منگل کے روز عدالتی کاروائي کے دوران ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بھائي محمد صدیقی اور نیویارک میں پاکستانی قونصل خانے کے ایک عملدار محمد آصف بھی موجود تھے۔