عافیہ کے خلاف فیصلہ

ڈاکٹر عافیہ
،تصویر کا کیپشنڈاکٹر عافیہ کے امریکی تحویل میں آنے کے بارے میں مختلف آرا ہیں
    • مصنف, حسن مجتبٰی
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نیو یارک

امریکہ کی وفاقی عدالت کی جیوری نے پاکستانی خاتون سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو افغانستان میں امریکی فوج اور حکومت کے اہلکاروں پر مبینہ طور قاتلانہ حملے اور قتل کی کوشش کرنے کے سات الزامات میں مجرم قرار دیا ہے۔

ڈاکٹر عافیہ پر الزام تھا کہ انہوں نے سنہ دو ہزار آٹھ میں جب وہ افغانستان میں حراست کے دوران امریکی فوجیوں کو ہلاک کرنے کی کوشش کی تھی۔ ڈاکٹر عافیہ نے الزامات کی تردید کی تھی۔

نیویارک میں مقدمہ سننے والی جیوری نے سینتیس سالہ عافیہ کو اقدام قتل کا مجرم قرار دیا تاہم ان پر منصوبے کے تحت قتل کرنے کی کوشش کا الزام ثابت نہیں ہوا۔

استغاثہ نے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ نے کیمیائی اجزاء اور نیویارک میں حملے کے بارے میں تحریروں کی برآمدگی کے بارے میں سوال پوچھے جانے پر رائفل اٹھا لی فوجیوں پر گولیاں چلائیں۔حملے میں کوئی امریکی زخمی نہیں ہوا تھا۔

ڈاکٹر عافیہ کو جولائی دو ہزار آٹھ میں افغان پولیس نے کیمیائی اجزاء رکھنے اور ایسی تحریریں رکھنے پر گرفتار کیا تھا جن میں نیویارک پر حملے کا ذکر تھا جس میں بھاری جانی نقصان ہونا تھا۔ ان پر القاعدہ کی قیادت سے رابطوں کا بھی الزام ہے۔

جب جیوری اراکین کی جانب سے فیصلہ سنایا گیا تو ڈاکٹر عافیہ صدیقی عدالت میں موجود تھیں اور اپنے خلاف فیصلہ سنائے جانے کے بعد انہوں نے کہا کہ ’میں جانتی ہوں کہ یہ فیصلہ امریکہ کا نہیں کہیں اور سے آیا ہے‘۔

ڈاکٹر عافیہ پر ثابت الزامات میں انہیں متوقع طور پر تیس سے پینتیس سال قید کی سزا ہوسکتی ہے۔ تاہم امریکی نظام انصاف میں سزا کا تعین جیوری نہیں بلکہ جج کرتا ہے اور اس مقدمے میں جج رچرڈ برمین نے فیصلے کی تاریخ چھ مئي مقرر کی ہے۔

ڈاکٹر عافیہ کے دفاع کے لیے پاکستانی حکومت نے بھی تین دفاعی وکلاء مقرر کیے تھے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی ایک دفاعی وکیل ایلین شارپ نے فیصلے کے بعد میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خلاف فیصلہ غلط ہے کیونکہ ان کے خلاف کوئی فورینزک گواہی نہیں ملی تھی جبکہ ان کے خلاف فیصلہ حقائق پر نہیں خوف کی بنیاد پر کیا گیا ہے‘۔

ڈاکٹر عافیہ کے ایک اور وکیل چارلس سوئفٹ نے جیوری کے فیصلے کے بعد عدالت کے باہر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس فیصلے سے دکھ پہنچا ہے لیکن انہیں امریکی نظام انصاف پر یقین ہے اور وہ فیصلے کے خلاف اپیل کریں گے۔

ڈاکٹر عافیہ کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ سماعت سے قبل ان کے وکلاء کا موقف تھا کہ وہ مقدمہ چلائے جانے کے لیے ذہنی طور اہل نہیں تاہم نفسیاتی معائنے کرنے والے ماہرین کے معائنہ جات اور آزادانہ رپورٹوں کے بعد فیصلہ دیا گیا تھا کہ ڈکٹر عافیہ صدیقی مقدمہ چلائے جانے کے لیے ذہنی طور اہل ہیں۔

اس مقدمہ کی باقاعدہ سماعت انیس جنوری سے شروع ہوئي تھیں اور اکیس دن کے اندر استغاثہ اور دفاع کو گواہیاں سننے کے بعد بارہ رکنی جیوری نے انہیں امریکی فوجیوں ، حکومتی اہلکاروں اور ان کے مترجموں کو قتل کرنے کی کوشش اور اس کیلیے ایم فور رائفل اٹھانے اور ان پر فائر کرنے کا مجرم قرار دیا۔