شہزادے کے ہاتھوں شہزادے کا’قتل‘

وسطی لندن کے ایک ہوٹل میں اپنے ہی ایک ساتھی کے قتل کے ملزم سعودی عرب کے ایک شہزادے کو عدالت میں پیش کر دیا گیا ہے۔
ویسٹ منسٹر مجسٹریٹ کی عدالت میں تینتیس سالہ سعود بن عبدالعزیز بن ناصر بن عبدالعزیز السعود نے عدالت میں محض اتنا ہی بیان دیا جس سے ان کے بارے میں بنیادی تفصیلات کی تصدیق ہوتی تھی۔
ان پر الزام ہے کہ انہوں نے گزشتہ پیر کو بتیس سالہ بندر عبداللہ عبدالعزیز کو جو میریلبون کے علاقے میں واقع لینڈ مارک نامی ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے، ہلاک کیا ہے۔
عدالت نے شہزادہ السعود کا ریمانڈ دیتے ہوئے، اٹھائیس مئی کو اولڈ بیلی عدالت حاصر ہونے کے لیے کہا۔ ان کی ضمانت کی درخواست کی سماعت آئندہ ہفتے ہو گی۔
مقتول شہزادے کے پوسٹ مارٹم سے یہ انکشاف ہوا ہے کہ ان کی موت گلا گھونٹے جانے سے واقع ہوئی۔
شہزادہ السعود کے وکیل مائیکل ولکائنڈ عدالت میں سماعت کے دوران اپنے موکل کو شہزادہ کہہ کر مخاطب کرتے رہے۔وکیل صفائی نے عدالت میں کہا کہ ’ہم توقع رکھتے ہیں کہ سماعت کے دوران ہم استغاثے کے اس الزام کو فاش کر دیں گے جس میں متوفی سے ایک حقیقی دوستی کے رشتے کو آقا اور غلام کے رشتے کی جھوٹی کہانی بنا کر پیش کیا گیا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’استغاثے نے ایک حقیقی حادثے کو غلط طور پر قتل کے جھوٹے الزام میں تبدیل کر دیا‘۔
شہزادہ السعود نے عدالت میں تمام گفتگو عربی میں کی اور انہیں اپنی بات میں سمجھانے کے لیے مترجم کی سہولت بھی فراہم کی گئی۔ ان پر شدید جسمانی ضرب لگانے کا الزام بھی ہے۔
شہزادہ سعود لندن کی سیاحت کے لیے چار ہفتے کے دورے پر تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی







