کابل میں خود کش حملہ، دو ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے مرکزی حصے میں زبردست دھماکے سنے گئے ہیں جن کے بعد گولیاں چلنے کی آوازیں بھی آئی ہیں۔ پہلے دھماکے کے بعد دو، تین دھماکے اور سنائی دیے گئے۔ حکام کے مطابق ان میں سے کم از کم خود کش حملہ تھا جس میں حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا دیا۔ باقی دو حملہ آوروں کو سکیورٹی اہلکاروں نے ہلاک کر دیا۔ دھماکوں میں کم از کم دو پولیس والے ہلاک اور کئی دوسرے زخمی ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کابل میں وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے تصدیق کی ہے کہ ایک دھماکہ خود کش بمبار نے کیا تھا۔
ترجمان نے بتایا کہ ایک خود کش بمبار نے ایک شاپنگ سینٹر کے سامنے خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اسی جگہ پر ایک بڑا ہوٹل بھی واقع ہے۔
اٹھارہ جنوری کو بھی طالبان حملہ آوروں نے کابل کے مرکزی حصے میں واقع شاپنگ سینٹروں کو نشانہ بنایا تھا جس میں حملہ آوروں سمیت گیارہ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
دوسری طرف افغانستان کے صوبے ہلمند میں طالبان کے خلاف نیٹو افواج کی کارروائی کے بعد افغان حکومت کے حکام نے مرجہ میں افغانستان کا جھنڈا لہرا دیا ہے۔ مرجہ میں یہ تقریب بارہ دنوں کی لڑائی کے بعد ہوئی اور مرجہ کا کنٹرول اتحادی فوج نے حکومت کے حوالے کر دیا۔ تاہم اتحادی افواج کی اب بھی مرجہ کے آس پاس کے علاقوں کو طالبان سے خالی کرانے کے لیے لڑائی جاری ہے۔ پندرہ ہزار سے زیادہ اتحادی افواج اس کارروائی میں حصہ لے رہی ہے جو نیٹو کے بقول طالبان کا آخری گڑھ سمجھا جاتا ہے۔

نیٹو افواج کے جنوبی افغانستان کے کمانڈر میجر جنرل نِک کارٹر کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا تھا کہ یہ آپریشن کئی طریقوں سے اگلے تین ماہ تک جاری رہے گا۔ ان کے بقول ہر جان کا ضیاع افسوسناک ہے تاہم اب اتحاد افواج سڑک کے کنارے نصب بموں کو تلاش کرنے میں بہتر کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔
ان کے بقول آپریشن مشترک میں پیش رفت تو ہو رہی ہے تاہم ابھی اس میں وقت لگے گا۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس حوالے سے پُراعتماد ہیں کہ اتحادی افواج اور افغان فوج مزید کامیابیاں حاصل کرے گی جس طرح اس نے مرجہ میں حاصل کی ہیں۔
میجر کارٹر نے طالبان کی جانب سے سڑک کے کنارے نصب بموں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ سب سے بڑا چیلنج ہے اور ان بموں کو تلاش کرنے میں مہارت حاصل کرنے کے باوجود اتحادی فوجوں کو جانی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انہوں نے کہا کہ اتحادی افواج بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لیے بھی تیار ہیں تاہم وہ اب سمجھتے ہیں کہ بدترین حالات گذر چکے ہیں اور اب حالات میں بہتری آ رہی ہے۔ ان کے بقول ہر جانی نقصان ایک سانحہ ہوتا ہے اور یہ ایک کمانڈر کو یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ اس کا ترتیب دیا گیا پلان مؤثر بھی ہے یا نہیں۔
میجر کارٹر نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر اتحادی افواج اسی رفتار سے آگے بڑھتی رہی تو نیٹو اس برس افغانستان میں گذشتہ برس سے زیادہ کامیاب رہے گی۔





















