میکرسٹل کا زوال؟

- مصنف, لزڈوسٹ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
افغانستان میں دہشت گردی کے خلاف ’اوباما کی جنگ‘ کے سالار جنرل سٹینلے میکرسٹل کو اپنا عہدہ سنبھالے ایک سال اور ایک ہفتہ ہوا ہے اور بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ان کا زوال شروع ہو چکا ہے۔
یہ فیصلہ اب امریکی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف براک اوباما کو کرنا ہے کہ وہ رولنگ سٹون میگزین میں شائع ہونے والے متنازع مضمون کی بنیاد پر جنرل میکرسٹل کو برخاست کرتے ہیں یا انہیں بخش دیتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا فیصلہ ان کی لیڈرشپ اور دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کے بارے میں ان کے ارادوں سے مطابق ایک توانا پیغام جائے گا جو ان کے بہترین جنرل کے اندازے سے زیادہ مشکل ثابت ہو رہی ہے۔
جب میں نے ایک سال پہلے کابل میں جنرل میکرسٹل سے بات چیت کی تھی تو میں نے ان سے پوچھا تھا کہ وہ امریکہ کی سب سے اہم جنگ کی کلیدی شخصیت ہونے کے دباؤ سے کس طرح عہدہ برآ ہوں گے تو ان کا جواب تھا ’میں اپنے ساتھ بہت سے اچھے لوگ لایا ہوں۔‘
ٹیم میکرسٹل ایسے انتہائی حد تک وفادار، یکسو، پراعتماد سپاہیوں اور مشیروں پر مشتمل ہے جو یا تو ان کے ساتھ عراق میں کام کر چکے ہیں یا پھر بہت سال پہلے ان کے ساتھ ویسٹ پوائنٹ ملٹری اکیڈمی میں تھے۔
وہ اپنے اس کمانڈر کے لیے سخت محنت کرتے ہیں جو اپنے درویشی لائف سٹائل اور کام کرنے کے انتہائی سخت معیارات کے لیے مشہور ہیں۔
لیکن ان کا رولنگ سٹون میگزین میں چھپنے والا ان کے غیرمحتاط اور اوباما انتظامیہ کے سویلین ارکان کے بارے میں نفرت آمیر بیان اس وقت ان کے سربراہ جنرل میکرسٹل کے زوال کا بھی باعث بن سکتا ہے جب افغان جنگ پہلے ہی مشکلات کا شکار ہے۔
رولنگ سٹون میں چھپنے والے مضمون میں بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح صدر اوباما ابھی تک بڑا فیصلہ کرنا ہے۔ امریکہ کی افغان ٹیم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بلکل غیر فعال ہو چکی ہے۔ صدر اوباما کی ٹیم میں شامل فوجی اور سویلین شخصیات کے درمیان حیران کن اور پیچیدہ حد تک مخاصمتیں اور دشمنیاں پائی جاتی ہے۔
جنرل میکرسٹل کے ایک مشیر کا کہنا ہے کہ جب انہیں(جنرل میکرسٹل کو) مضمون میں چھپنے والی چیزوں ے بارے میں بتایا گیا تھا تو انہوں نے اس پر کسی بھی طرح کے غصے کا اظہار نہیں کیا اور غلط فیصلے کی پوری ذمہ داری قبول کی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اور پھر اگلی صبح وہ کام پر چلے گئے اور وائٹ ہاؤس میں اپنی زندگی کی اہم ترین ملاقات کے لیے واشنگٹن جانے سے پہلے ان کی تمام تر توجہ افغانستان میں جاری جنگ پر رہی ہے۔
ایک سینیئر برطانوی فوجی کا کہنا ہے کہ انہوں نے چند ہفتے پہلے اس بارے میں واشنگٹن کی ناخوشی سے متعلق چہ مہ گوئیاں سنی تھیں کہ افغان جنگ کو کس طرح پرکشش شخصیت کے مالک جنرل کے ساتھ نتھی کر کے دیکھا جا رہا ہے۔
آپ کو جنرل میکرسٹل کی پراثر شخصیت کے بارے میں اکثر سننے کو ملتا ہے۔
اپنی ٹیم کے لیے وہ ایک ایسی شخصیت تھے جو کامیابی حاصل کرنا جانتا ہے اور ان کی خواہش تھی کہ یہ دنیا کو بھی معلوم ہو۔
رولنگ سٹون میں متنازع مضمون کے چھپنے میں جنرل میکرسٹل کے سویلین مشیر ڈنکن بُودبی کے کلیدی کردار ادا کیا تھا۔ انہوں نے بی بی سی سمیت میڈیا کے ساتھ خوشگوار تعلقات استوار کرنے کے لیے بہت کوشش کی تھی۔ انہوں نے اس مضمون کی اشاعت سے پیدا ہونے والے تنازع کے شہ شرخیوں میں آنے کے فوری بعد اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
جب اس سال آئس لینڈ میں آتش فشانی کے نتیجے میں پیدا والی راکھ کے بارے میں لکھا جائے گا تو رولنگ سٹون کے مضمون کو اسی راکھ کا شاخسانہ سمجھا جائے گا کیونکہ اس مضمون کے لکھاری مائیکل ہیسٹنگز کو فضائی ٹریفک کے درہم برہم ہونے کی وجہ سے جنرل میکرسٹل اور ان کے مشیروں کے ساتھ توقع سے زیادہ وقت گزارنے کا موقع مل گیا تھا۔ جب راکھ کی وجہ سے ہر طرح کی ائیر ٹریفک کو بند کیا گیا تو مائیکل ہیسٹنگز اور جنرل میکرسٹل کی ٹیم پیرس میں پھنس گئے تھے۔
جب اس نئے تنازع سے متعلق خبریں سامنے آئیں تو کچھ سینئر سویلین اور فوجی افسروں نے آف دی ریکارڈ گفتگو میں میڈیا کی دنیا اور سیاست کے پیچیدہ میدان سے متعلق ان کی معصومیت کا ذکر بھی کیا۔
دوسری طرف اگر دیکھا جائے تو گزشتہ جون میں جب جنرل میکرسٹل نے اپنا عہدہ سنبھالا تھا تو انہوں نے اپنے پیش رو کے برعکس فوری طور پر پریس سے رابطہ بحال کیا تھا۔
جب آخری بار میری جنرل میکرسٹل سے ملاقات ہوئی تھی تو ان کے ذہن پر کئی معاملات سوار تھے اور وہ دکھائی بھی دے رہا تھا۔ اگرچہ انہوں نے قندھار میں ایک فیصلہ کن جنگ کے بارے میں کوئی ایسا بڑھ چڑھ کر بیان تو نہیں دیا جیسا وہ ایک ماہ پہلے تک دے رہے تھے لیکن ان کا یہ بدستور اصرار تھا کہ ان کے خیال میں وہ جیت سکتے ہیں۔
ایک مرتبہ میں نے افغان وزیر دفاع جنرل رحیم وردک سے جنرل میکرسٹل کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ سن دو ہزار ایک کے بعد سے پہلے امریکی کمانڈر ہیں جو افغان جنگ میں خود اپنا کیریئر داؤ پر لگا رہے ہیں۔
آج ان کی یہ بات کسی بھی اور دن سے زیادہ سچ لگ رہی ہے۔





















