افغانستان: ’بدعنوانی رک نہیں سکی‘

فائل فوٹو
،تصویر کا کیپشنافغانی باشندے رشوت کو پسند نہیں کرتے لیکن مجبور ہیں

بدعنوانی کے خلاف کام کرنے والے ایک عالمی ادارہ کے جائزے سے پتہ چلا ہے کہ افغانستان میں دو ہزار سات کے مقابلے میں بد عنوانی میں اضافہ ہوا ہے۔

اس تنظیم کے مطابق دو ہزار نو میں تقریباً ایک ارب ڈالر کی رقم کا بطور رشوت لین دین ہوا ہے۔

اس میں بھی رشوت دینے والوں میں سے ایک تہائی کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ پیسے سرکاری خدمات حاصل کرنے کے لیے ادا کی ہے۔

اس سروے میں شامل تقربیاً نصف لوگوں کا کہنا تھا کہ بدعنوانی کے سبب طالبان کے اثر و رسوخ کو فروغ مل رہا ہے۔

رشوت کے اوسطاً رقم ایک سو اسّی ڈالر یعنی تقریبا آٹھ ہزار روپے ہوتی ہے۔ یعنی غریب ممالک میں ایک ماہ تنخواہ کے برابر کی رقم۔

بدعنوانی کا چلن اسقدر زیادہ ہے کہ صحت ہو یا پھر تعلیم، پاسپورٹ یا شناختی کارڈ ہی کیوں نہ حاصل کرنا ہو ہر جگہ رشوت دینی پڑتی ہے۔

تقربیاً ساڑھے چھ ہزار لوگوں پر مشتمل اس سروے کے مطابق بیشتر لوگ محکمہ پولیس اور عدلیہ کو سب سے زیادہ بد عنوان مانتے ہیں۔

رپورٹ کو تیار رکنے والے لورینزو ڈیلیزگیس کا کہنا ہے ’اس سے حکومت کی رٹ کمزور پڑتی ہے اور طالبان کی رٹ کو فروغ مل رہا ہے۔ نصف سے زیادہ لوگ یہ مانتے ہیں کہ افغان حکومت میں بدعنوانی کے چلن سے طالبان مضبوط ہورہے ہیں۔‘

اس صورت حال کے باوجود ملک کی اکثریت صدر اور حکومتی اداروں سے یہ امدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں کہ وہ حالات بہتر کریں گے۔

افغانی باشندوں کو اپنے ملک میں بد عنوانی کے تئیں اتنی ہی تشویش ہے جتنی کی عالمی برادری کو ہے۔ افغانستان میں رشوت کا لین دین وہاں کے کلچر کا حصہ نہیں ہے اور نوے فیصد لوگوں کا کہنا ہے رشوت دیتے وقت انہیں بہت برا لگتا ہے۔