تیل رساؤ کو روک نے کی نئی کوشش

برطانوی تیل کمپنی برٹش پیڑولیم نےخلیجِ میکسیکو میں کنویں سے تیل کے رساؤ کو روکنے کے لیے کنویں کے متاثرہ حصے پر کامیابی سے ڈھکن لگادیا ہے۔ برٹش پٹرولیم نے امید ظاہر کی ہے کہ ایسا کرنے سے تیل کے رساؤ کو روکنے میں مدد ملے گی۔ اس سے پہلے جو ڈھکن لگایا گیا تھا وہ تیل کی صرف نصف مقدار روکنے میں کامیاب ہوسکا تھا۔
تاہم بر ٹش پیڑولیم نے خبر دار کیا ہے کہ ڈھکن لگانے کی نئی تکنیک کو پہلی مرتبہ آزمایا جارہا ہے، یہ کتنی موثر ثابت ہوگی اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔
خیال ہے کہ یہ پورا عمل اگست کے وسط تک مکمل ہوجائیگا۔
اسی دوران امریکی انتظامیہ نے زیر آب گہرائی میں تیل کے لیے کھدائی پر پابندی کا ایک نیا حکم نامہ جاری کیا ہے۔ اس سے پہلے اسی قسم کے حکم نامے کو عدا لت نے مسترد کردیا تھا۔ نیاحکم نامہ تیس نومبر تک موثر رہیگا۔
لوزیانا کی عدالت نئے حکم کے بارے میں کیا فیصلہ کرے گی یہ ابھی واضح نہیں۔
واضح رہے کہ برٹش پٹرولیم کے ترجمان نے جمعرات کے روز ایک بیان میں کہا کہ اُن کی کمپنی کی جانب سے خلیجِ میکسیکو میں تیل کے رساؤ کو روکنے کے لیے ایک نیا کنواں کھودا جا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی حکومت کے اندازے کے مطابق خلیجِ میکسیکو میں برٹش پیٹرولیم کے تیل کے کنویں سے روزانہ تقریباً پینتیس سے ساٹھ ہزار بیرل خام تیل سمندر میں جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ خلیجِ میکسیکو میں تیل کے کنویں میں بیس اپریل کو ایک دھماکے کے نتیجے میں گیارہ ورکرز ہلاک ہو گئے تھے اور بڑی مقدار میں تیل خلیجِ میکسیکو میں پھیل گیا تھا جس سے امریکہ کی پانچ ریاستوں کے ساحل بری طرح متاثر ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس واقعہ کو امریکی صدر براک اوباما نے امریکی تاریخ کا سب سے بڑا ماحولیاتی حادثہ قرار دیا ہے۔





















