’افغانستان: ملے جلے اشارے نہیں دیے‘

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے تردید کی ہے کہ وہ سنہ دو ہزار پندرہ تک افغانستان سے فوجوں کی واپسی کے بارے میں انھوں نے ’ملے جلے‘ اشارے دیے ہیں۔
وزیرِ اعظم کے علاوہ ان کے نائب نک کلیگ اور وزیرِ خارجہ ولیم ہیگ تینوں یہ کہہ رہے ہیں کہ برطانوی فوجیں افغانستان میں بطور لڑاکا فوج سنہ دو ہزار پندرہ سے زیادہ نہیں رہیں گی۔
لیکن ڈیوڈ کیمرون نے یہ بھی کہا ہے کہ افغانستان سے برطانوی فوجوں کی واپسی شرائط کے ماتحت ہوگی۔
برطانوی حزب اختلاف لیبر پارٹی کے چند اراکین اور خود اپنی جماعت کی کچھ بیک بنچرز کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے، وزیرِ اعظم کیمرون نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ان دونوں باتوں میں قطعاً کوئی تضاد نہیں۔‘
ڈیوڈ کیمرون نے جنھوں نے گزشتہ روز واشنگٹن میں امریکی صدر براک اوباما کے ساتھ دیگر امور کے علاوہ افغانستان کی صورتِ حال پر بھی بات چیت کی تھی، کہا کہ برطانیہ کی افغانستان سے متعلق پالیسی وہی ہے جو سابق حکومت کے دور میں تھی۔
وزیرِ اعظم نے وضاحت کی کہ انھوں یہ کہ تھا کہ برطانوی فوجی سنہ دو ہزار پندرہ تک گھر واپس پہنچ چکے ہوں گے کیونکہ وہ یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ برطانوی فوجی ہمیشہ افغانستان میں نہیں رہیں گے۔
’یہ کہنا مناسب ہے کہ یہ کام دو ہزار پندرہ تک مکمل ہو جائے گا کیونکہ اتحادی افواج کا منصوبہ ہے کہ زمینی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے سنہ دو ہزار چودہ تک افغانستان افغانوں کے حوالے کر دیا جائے۔


















