ہنر مند تارکینِ وطن چھوٹی ملازمتوں پر

برطانیہ آنے والے بیشتر ہنر مند تارکینِ وطن غیر تربیت یافتہ کام کرنے پر مجبور ہیں۔
برطانوی بارڈر ایجنسی کے مطابق دوسرے ممالک سے ہائیلی سکلڈ ویزا پر آنے والا ہر تیسرا شخص چھوٹی موٹی ملازمتیں کر رہا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کے اعلیٰ ہنر کے سبب ترجیحی بنیادوں پر برطانیہ کا ویزہ دیا گیا تھا۔
برطانیہ میں 2008 میں پوائنٹ کی بنیادوں پر شروع کیے گئے امیگریشن سسٹم کے تحت اس طرح کے لوگوں کو اول درجے میں رکھا جاتا ہے۔
بھارت کے شہر حیدرآباد سے برطانیہ آنے والی سلطانہ نے برطانیہ کی ہی یونیورسٹی سے بزنس ایڈمنسٹریشن میں ماسٹرز کیا ہے اور اب وہ لندن کے ویسٹ اینڈ علاقے میں ایک مصروف ترین ریستوران میں کام کرتی ہیں۔
سلطانہ نے بتایا کہ کیسے وہ اور ان کے کچھ دوست ’جو اپنے پیشے میں اچھا مستقبل بنانے کے لیے برطانیہ آئے تھے‘ اب کم اجرت والی ملازمتوں میں پھنس کر رہ گئے۔
سلطانہ کہتی ہیں کہ بدقسمتی سے انہیں وہ مواقع نہیں ملے جن کی وہ توقع کر رہی تھیں اور اسی لیے وہ اس ریستوران میں کام کرنے پر مجبور ہو گئیں۔
ان کا کہنا ہے کہ وہ ایک اچھی ملازمت حاصل کرنا چاہتی ہیں جو ممکن نظر نہیں آرہا۔ سلطانہ کا کہنا تھا کہ وہ اور ان کے دوستوں کو ان کی تعلیمی قابلیت کے مطابق ملازمت نہیں مل رہی اسی لیے وہ بھی کیفے اور ریستوران میں کام کرنے پر مجبور ہیں۔
برطانوی یونیورسٹیوں سے ڈگری حاصل کرنے والے غیر ملکیوں کو بھیاول درجے میں رکھا جاتا ہے۔ اور وہ بھی دو سال تک یہاں کام کرنے کی اجازت حاصل کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ برس اول درجے کے تقریباً انیس ہزار ویزے جاری کیے گئے تھے اور ان میں سے زیادہ تر لوگ بھارت، پاکستان اور نائجیریا سے تھے۔ برطانوی بارڈر ایجنسی کے سروے کے مطابق ایسے 29 فیصد لوگ معمولی ملازمتیں کر رہے ہیں۔
امیگریشن کے وزیر ڈیمین گرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی ملازمتیں برطانوی لوگوں کے لیے ہونی چاہییں اور جو لوگ اول درجے کے ویزہ پر برطانیہ آتے ہیں انہیں اپنی اہلیت کے مطابق ہی کام کرنا چاہیئے۔





















