بریقہ سے پسپائی کے بعد فضائی بمباری

بن غازی میں لوگوں نے گرین بک کو نذر آتش کیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبن غازی میں لوگوں نے گرین بک کو نذر آتش کیا

لیبیا میں کرنل معمر قذافی کی حامی فوج نے تیل کی تجارت کے اعتبار سے اہم بندرگاہ بریقہ سے پسپائی کے ایک دن بعد شہر پر فضائیہ سے بمباری کی ہے۔

کرنل قذافی کے حامیوں نے بدھ کو پوری قوت سے بریقہ پر حملہ کیا تھا اور عارضی طور پر شہر پر قبضہ بھی کر لیا تھا لیکن مخالفین نے انھیں تھوڑی دیر میں پسپائی پر مجبور کر دیا۔

کرنل قذافی کے مخالفین فضائی حملوں کے دفاع میں راکٹ لانچرز استعمال کر رہے ہیں۔

کرنل قذافی اور ان کے مخالفین میں بدھ کو ہونے والی لڑائی میں چودہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔

بی بی سی کے نمائندے جان سمسن نے بریقہ شہر سے اطلاع دی تھی کہ سرکاری فوج کی پسپائی کے بعد پورے شہر میں لوگوں نے ہوائی فائرنگ کی اور شہر کا کامیابی سے دفاع کرنے کی خوشی منائی۔

قذافی کی حامی فوج کو عددی اور اسلح کے اعتبار سے حکومت مخالف فوج پر برتری حاصل تھی اور ابتداء میں ایسا دکھائی دیتا تھا کہ وہ شہر پر آسانی سے قبضہ کر لے گی لیکن مخالفین نے بھر پور مزاحمت کی اور ان کا حملہ پسپا کر دیا۔

دریں اثناء ملک کے دوسرے حصے سے ملنے والی اطلاع کے مطابق ہالینڈ کے تین میرین فوجیوں کو قذافی کی حامیوں نے اغواء کر لیا ہے۔ ہالینڈ کی حکومت نے ان تینوں فوجیوں کی گمشدگی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ فوجی لیبیا سے دو مغربی باشندوں کے انخلاء میں مدد دے رہے تھے جب انھیں سریت شہر سے اغواء کر لیا گیا۔

کرنل قذافی نے خبردار کیا ہے کہ وہ آخری مرد اور عورت تک اپنی حکومت کا دفاع کریں گے۔

بریقہ شہر پر پہلے فضائی بمباری بھی کی گئی

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنبریقہ شہر پر پہلے فضائی بمباری بھی کی گئی

معمر قذافی نے بدھ کو اپنی ایک نشری تقریر میں خبردار کیا کہ اگر مغربی طاقتوں نے ملک میں مداخلت کی کوشش کی تو ہزاروں کی تعداد میں لیبیا کے لوگ ہلاک ہوں گے۔

ادھر اقوام متحدہ میں معمر قذافی کی فوج کے مخالفین پر فضائی حملوں کو روکنے کے لیے لیبیا پر فضائی پابندیوں عائد کرنے کی تجویز پر غور کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کی نمائندہ باربرہ پلیٹ نے نیویارک سے اطلاع دی ہے کہ روس اور کئی دیگر ملک کسی ایسی تجویز کی حمایت نہیں کریں گے تاوقتیکہ قذافی کے حامی شہریوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔

اسی دوران وینزویلا کے صدر ہیگو شاویز نے کرنل قذافی سے بات کی ہے اور ایک ’امن کمیشن‘ بنانے کی تجویز دی ہے۔

وینزویلا کے وزیر مواصلات اندرے ازارے نے صدر شاویز کی تجویز پر معمر قذافی کے ردعمل کے بارے میں کوئی اشارہ نہیں دیا۔

بریقہ شہر سے جان سمسن نے بتایا ہے کہ انھوں نے ساحل سمندر اور یونیورسٹی کا دورہ کیا جہاں گزشتہ روز قذافی کی حامی فوج اور مخالفین میں شدید لڑائی ہوئی تھی۔ جان سمسن نے بتایا کہ پورا علاقے مخالفین کے قبضے میں تھا اور حکومت کے حامی فوجی کہیں دکھائی نہیں دیئے۔

قذافی کے مخالفین فضائی حملے سے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں اور راکٹ لانچر استعمال کر رہے ہیں

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

،تصویر کا کیپشنقذافی کے مخالفین فضائی حملے سے دفاع کے لیے طیارہ شکن توپیں اور راکٹ لانچر استعمال کر رہے ہیں

ہمارے نمائندے نے قذافی مخالفین میں شامل ایک اعلی فوجی اہلکار سے بات کی جن کا کہنا تھا کہ قذافی کے حامی کم از کم دس ٹرکوں میں سوار تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتداء میں قذافی کے حامیوں نے تیل صاف کرنے والے کارخانے اور یونیورسٹی پر قبضہ بھی کر لیا تھا لیکن بعد میں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کے پاس گولیوں کا ذخیر ختم ہو گیا جس پر وہ پسپا ہو گئے۔

قذافی کے مخالفین بریقہ پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے پر بڑے خوش تھے اور ان کا خیال تھا کہ قذافی کے حامی فوجی دل سے نہیں لڑ رہے۔