لیبیا پر حملے، ایک نپا تلا داؤ

اتحادی فوجی

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنفرانسیسی فوج نے لیبیائی ٹینکوں اور جیپوں کو نشانہ بنایا ہے

لیبیا پر اتحادی افواج کے حملوں میں سب سے پہلے قذافی کی کمانڈ اور کنٹرول صلاحیتوں کے ساتھ ان کے فضائی دفاعی نظام کو ہدف بنایا جائے گا جو غیر ملکی طیاروں کے لیے ابھی بھی بڑا خطرہ ہے۔

برطانوی وزیرِ اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ لیبیا آپریشن میں برطانوی فوج پہلے ہی ایکشن میں آچکی ہے اس آپریشن کو برطانیہ میں ’آپریشن اِلامی‘ اور امریکہ میں ’اوڈیسی ڈان‘ کا نام دیا گیا ہے۔

برطانیہ کے زمین اور فضا سے فضا میں مار کرنے والے جنگی طیارے مشن میں شرکت کر ے ہیں جبکہ برطانوی جنگی جہازوں کا بیڑہ بھی لیبیا کے ساحل کے نزدیک ہے۔اس کے علاوہ اس مشن کے لیے آبدوزیں بھی تعینات کر دی گئی ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ خصوصی فوجی دستے پہلے ہی لیبیا میں موجود ہیں جن کا کام مختلف اہداف کا جائزہ لینا اور باقی تیاریاں کرنا ہے۔اس فورس کا کام ان لوگوں کو اہم اطلاعات فراہم کرنا ہے جو فضائی اور بحری حملے کر رہے ہیں ۔

فرانسیسی فوج نے اب تک حملوں میں لیبیائی ٹینکوں اور جیپوں کو نشانہ بنایا ہے جبکہ برطانوی فوج کا اصل کام جنگی اور جاسوس جہازوں کے ذریعے زمین پر ہونے والے اہم واقعات کی اطلاعات فراہم کرنا اور دیگر جنگی جہازوں کو فضا میں ہی ایندھن مہیا کرانا ہے۔

اس اتحاد میں امریکہ کی ذمہ داری لیبیا کے فضائی دفاعی نظام کو میزائل حملوں سے ختم یا کمزور کرنا ہے۔

اس مشن میں کمانڈروں کو مشکل فیصلے بھی کرنے ہونگے مثلاً کب اور کس ہدف کو نشانہ بنایا جائے اس لیے زمین سے بالکل درست اطلاعات کا آنا بھی بہت ضروری ہے۔

فرانس، برطانیہ ، ڈنمارک ، ناروے اور کینڈا کی جانب سے مہیا کیےگئے انتہائی اعلٰی تکنیک سے لیس طیارے آسانی سے فضائی کنٹرول حاصل کر سکتے ہیں لیکن پھر بھی لیبیا کے عام شہریوں کی جان کی حفاظت بھی ایک بڑا اور اہم مسئلہ ہوگا وہ بھی ایسے وقت میں جب قذافی کی فوج بن غازی کے بہت نزدیک ہے۔

اتحادیوں کے لیے یہ ایک نپا تلا داؤ ہے۔ اقوامِ متحدہ کی قرارداد نے انہیں نہ صرف کرنل قذافی کے فضائی دفاع کو ناکارہ بنانے بلکہ لیبیا کی زمینی فوج کو نشانہ بنانے کی بھی اجازت دی ہے۔

امید یہی ہے کہ بین الااقوامی فورسز کے فضائی حملے کرنل قذافی کی فوج کا حوصلہ پست کردیں گے اور وہ ہار تسلیم کر لیں گے۔

لیکن ایک ایسے وقت میں جب فضائی کارروائی میں مصروف اتحادیوں کو ہر قسم کے وسائل میسر ہیں، اس آپریشن میں شریک لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اس طاقت کا استعمال انتہائی احتیاط سے کیا جانا ضروری ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ لیبیائی عوام جو کہ ان کے ساتھ ہیں محفوظ رہیں۔