مصراتہ میں لڑائی میں شدت

،تصویر کا ذریعہAFP
لیبیا کے ساحلی شہر مصراتہ میں کرنل قذافی کی فوج اور باغیوں کے درمیان لڑائی نے شدت اختیار کر لی ہے۔
سرکاری فورسز مصراتہ کو باغیوں کے قبصے سے چھڑانے کی بھرپور کوشش کر رہی ہیں۔ مصراتہ کو فوج نے گزشتہ دو ماہ سے گھیرے میں لیا ہوا ہے جو ملک کے مغربی حصے میں واحد علاقہ ہے جہاں باغیوں کا کنٹرول ہے۔
باغیوں کے ایک ترجمان کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی علاقے میں انسانی بحران پیدا کرنا چاہتے ہیں۔
باغیوں کا کہنا ہے کہ مصراتہ کے تین لاکھ رہائشیوں کی حفاظت کے لیے نیٹو کو مذید اقدامات کرنے چاہیں۔
ادھر ملک کے مشرق میں بن غازی کی طرف جانے والی ساحلی سڑک پر لڑائی جاری ہے۔
اس دوران دارالحکومت طرابلس میں اینٹی ائر کرافٹ سے فائرنگ کی آوازیں سنائی دی ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ شہر پر فضائی حملہ کیا گیا ہے۔
اس سے پہلے امریکہ، برطانیہ اور فرانس نے ایک مشترکہ خط میں کہا تھا کہ لیبیا میں اُس وقت تک امن بحال نہیں ہو سکتا جب تک کرنل معمر قذافی اقتدار پر قابض ہیں۔
امریکہ کے صدر براک اوباما، برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون اور فرانسیسی صدر نکولس سرکوزی نے کہا تھا کہ نیٹو کو لیبیا میں شہریوں کو بچانے اور معمر قذافی پر دباؤ برقرار رکھنے کے لیے اپنی فضائی کارروائی جاری رکھنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خط میں لکھا گیا تھا کہ کرنل قذافی کو اقتدار پر قابض رہنے دینا لیبیا کے عوام کو دھوکہ دینے کے مترادف ہو گا۔
کرنل قذافی کی بیٹی نے ان رہنماؤں پر لیبیا کے عوام کی تذلیل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔

،تصویر کا ذریعہReuters
عائشہ قذافی نے طرابلس میں باب العزیزیہ میں قذافی کے حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قذافی کے استعفے کی بات کرنا لیبیا کی عوام کی تذلیل کرنا ہے۔ باب العزیزیہ انیس سو چھیاسی میں لیبیا پر فضائی بمباری میں جزوی طور پر تباہ ہو گیا تھا۔
نیٹو کو اس وقت لیبیا پر اپنی فضائی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے اضافی جہازوں کی فوری ضرورت ہے۔
نیٹو کے اٹھائیس رکن ممالک میں سے صرف فرانس، برطانیہ، کینیڈا، بیلجیئم، ناروے اور ڈنمارک فضائی کارروائیوں میں شامل ہیں۔
نیٹو کے سیکریٹری جنرل اندرے فوگ راسموسن نے نیٹو کے وزراء خارجہ کے اجلاس میں بتایا کہ انھوں کسی بھی رکن ملک کی طرف سے اضافی جہاز مہیا کرنے کی پیش کش نہیں کی گئی ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اس بارے میں پرامید ہیں۔
لیبیا میں اس سال فروری میں کرنل قذافی کے خلاف بغاوت شروع ہوئی تھی جس کے بعد سے ملک کرنل قذافی کے حامیوں اور باغیوں میں تقسیم ہو کر رہ گیا ہے۔
امریکہ برطانیہ اور فرانس کے رہنماؤں کی طرف سے یہ خط ایک ایسے وقت تحریر کیا گیا ہے جب معمر قذافی کے خلاف فضائی کارروائیوں سے کرنل قذافی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے میں ناکامی اور نیٹو ممالک کے کچھ ارکان کی طرف سے اس سلسلے میں مزید اقدامات کرنے میں بے چینی سے پائی جاتی ہے۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
ان تینوں ممالک کے رہنما یہ سمجھتے ہیں کہ یہ اہم موقع ہے کہ وہ متحد ہونے کا تاثر دیں اور انہوں نے یہ کہا ہے کہ فضائی کارروائیاں لیبیا کے عوام کو بچانے کے لیے کافی نہیں ہیں۔
بی بی سی کے پال ایڈمز نے واشنگٹن سے اطلاع دی ہے کہ اس خط کا برطانوی اخبار ٹائمز، واشنگٹن پوسٹ اور فرانسیسی اخبار لی فیگاروں میں بیک وقت شائع ہونا ایک غیر معمولی بات ہے۔
اس خط پر صدر اوباما، وزیر اعظم ڈیویڈ کیمرون اور صدر نکولس سرکوزی کے دستخط ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ لیبیا کے شہروں مصراتہ اور اجدابیہ میں شہری قذافی کے ہاتھوں شدید نقصانات اٹھا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرنل قذافی کو اقتدار سے علیحدہ کرنے کا اتحادی فوج کو اختیار نہیں ہے اور کرنل قذافی کی موجودگی میں لیبیا کے مستقل کا تصور کرنا ناممکن بات ہے۔
اس خط میں تینوں رہنماؤں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ امریکہ، برطانیہ اور فرانس اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھیں گے جب تک اقوام متحدہ کی قرار داد پر عمل نہیں ہو جاتا اور لیبیا کے عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق نہیں مل جاتا۔
لیبیا کے سرکاری ٹی وی نے جمعرات کو دارالحکومت طرابلس پر بمباری کی اطلاع دی ہے۔ نیٹو نے شہر سے چوبیس کلو میٹر دور ایک میزائل بیٹری کو نشانہ بنانے کی تصدیق کی۔
طرابلس میں موجود رائٹرز کے نمائندے نے چار دھماکوں اور شہر کے جنوب مشرق سے دھوئے کے بادل اٹھتے دیکھے جانے کی اطلاع دی ہے۔
بی بی سی کے نمائندے جیریمی بوؤن ان بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں میں شامل تھے جنہیں طرابلس میں یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا لے جایا گیا جہاں پر کھڑکیوں کے ٹوٹے ہوئے شیشے بکھرے پڑے تھے۔ حکام کے مطابق یہ شیشے بمباری سے ٹوٹے تھے۔
دریں اثنا لیبیا کے سرکاری ٹی وی پر معمر قذافی کو طرابلس کی ایک شاہراہ پر ایک گاڑی کی چھت سے نکل کر اپنے حامیوں کو ہاتھ ہلاتے ہوئے دکھایا گیا۔




















