مصراتہ میں لڑائی جاری

،تصویر کا ذریعہReuters
لیبیا کے شہر مصراتہ میں باغیوں نے کہا ہے کہ کرنل قذافی کی افواج مسلسل مصراتہ پر حملے کر رہی ہیں اور لڑائی بند ہونے کی اطلاعات درست نہیں ہیں۔
باغیوں کے ترجمان عبد السلام نے خبر رساں ادارے رائٹر کو بتایا کہ معمر قذافی کی افواج نے اتوار کو ایک شہری مرکز پر اندھا دھند گولہ باری شروع کر دی جس سے کم از کم چھ افراد ہلاک ہو گئے۔
انہوں نےمصراتہ کے تین رہائشی علاقے، شہری مرکز اور تریپولی سٹریٹ پر گولہ باری کی گئی۔
اس سے قبل لیبیا کی حکومت کے ترجمان نے کہا تھا کہ اس کی فوج نے مصراتہ میں مقامی قبائلی رہنماوں کو باغیوں کے ساتھ بات چیت کا موقع دینے کے لیے اپنی کارروائی روک دی ہے۔
اتوار کی صبح نائب وزیرِ خارجہ خالد قائم کا کہنا ہے کہ فوج اس محصور بندرگاہی شہر سے ابھی نکلی نہیں ہے لیکن اس نے اپنی کارروائی روک دی ہے کیونکہ قبائلی رہنماؤں نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ مصراتہ میں معمول کی زندگی بحال کرنے کی کوشش کریں گے۔
بن غازی میں باغی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ کرنل قذافی ’گیم‘ کھیل رہے ہیں اور یہ کہ وہ مصراتہ سے اپنی فوج نہیں ہٹائیں گے۔
لیبیا کا تیسرا سب سے بڑا شہر مصراتہ باغیوں کا سب سے بڑا گڑھ ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ گزشتہ روز شہر کا اب تک کا سب سے خوں ریز دن رہا اور شہر میں مختلف واقعات میں کم از کم 24 افراد ہلاک اور سو زخمی ہوئے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ قبائلی رہنما اس بات پر ناراض ہیں کہ اس لڑائی سے اس شہر میں زندگی اور کاروبار مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
اس سے پہلے لیبیا کے ایک سینیئر اہلکار نے کہا تھا کہ کرنل قذافی کے حامی قبائل یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر فوج باغیوں کو ساحلی شہر مصراتہ سے نہیں نکال سکتی تو وہ خود یہ کام کرنے کے لیے تیار ہیں۔
نائب وزیرِ خارجہ خالد قائم نے کہا کہ فوج نے کوشش کی ہے کہ عام شہریوں کی ہلاکتیں کم سے کم ہوں لیکن قبائل اس طرح نہیں کریں گے۔ تاہم باغیوں کے ایک ترجمان کے مطابق یہ سب کرنل قذافی کی ’چال‘ ہے۔
دوسری طرف نیٹو نے طرابلس پر مزید فضائی حملے کیے ہیں۔ لیبیا کی حکومت کے مطابق حملوں میں تین شہری ہلاک ہوئے ہیں۔
طرابلس میں بی بی سی کے نامہ نگار جیریمی بووین نے کہا ہے کہ سنیچر کو کرنل قذافی کے باب العزیزیہ کمپاؤنڈ کے قریب بنکر پر دو حملے کیے گئے۔
امدادی ایجنسیوں کے مطابق کئی ہفتوں کی لڑائی کے بعد مصراتہ شہر کو شدید انسانی بحران کا سامنا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ شہر میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

،تصویر کا ذریعہReuters (audio)
بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق قذافی کی حکومت بالکل تنہا ہوتی جا رہی ہے اور اس کی کوشش ہے کہ مسئلے کا کسی قسم کا کوئی جمہوری حل نکل آئے۔
لیبیا کے نائب وزیرِ خارجہ کا کہنا ہے کہ قبائلیوں کی طرف سے الٹی میٹم فوج اور قبائل کے درمیان ایک میٹنگ کے بعد سامنے آیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائل سخت ناراض ہیں کہ لڑائی کی وجہ سے ان کی زندگیاں اور کاروبار سخت متاثر ہو رہا ہے۔ خالد قائم کے مطابق قبائل کا کہنا ہے کہ بندرگاہ سب کے لیے ہے صرف باغیوں کے لیے نہیں۔
یاد رہے کہ مصراتہ کی بندرگاہ طرابلس کے بعد سب سے مصروف ترین بندرگاہ ہے۔
خالد قائم نے صحافیوں کو بتایا کہ ’اب فوج کے سامنے ایک الٹی میٹم ہے کہ اگر وہ مصراتہ کا مسئلہ حل نہیں کر سکتی تو پھر علاقے کے لوگ (اسے حل کرنے) آ جائیں گے۔‘
اس سے قبل امریکی فوج کے سینیئر اہلکار ایڈمرل مائیک مولن نے کہا تھا کہ اگرچہ نیٹو اور امریکہ نے لیبیا کی زمینی فوج کو تیس سے چالیس فیصد تباہ کر دیا ہے پھر بھی لیبیا میں جنگ ’تعطل کی طرف بڑھ رہی ہے۔‘




















