’نیٹو کارروائی کا دائرہ وسیع کرے‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
برطانوی مسلح افواج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ نیٹو کو چاہیے کہ وہ لیبیا میں بمباری کے اہداف پر پابندیوں کو نرم کرکے اپنی کارروائی کا دائرہ بڑھائے۔
جنرل سر ڈیوڈ رچرڈ نے برطانوی اخبار سنڈے ٹیلی گراف سے بات کرتے ہوئے کہا کہ لیبیا میں ان بنیادی ڈھانچوں پر براہِ راست بمباری شروع کی جانی چاہیے جن سے کرنل قذافی کی حکومت قائم ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کرنل قذافی کو اقتدار سے ہٹانا بہت ضروری ہے۔
برطانیہ اور دیگر ممالک شہریوں کو تحفط فراہم کرنے سے متعلق اقوامِ متحدہ کی قرارداد کے تحت لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی کر رہے ہیں۔
خیال ہے کہ برطانوی فوج کے سربراہ جنرل سر ڈیوڈ رچرڈ کے اس خیال سے نیٹو کے دیگر سینئر افسران بھی اتفاق کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹینک اور کمانڈ سائٹ جیسےاہداف کو براہ راست حملوں کی زد میں لانا جائز ہے لیکن اس کے لیے رکن ممالک کی حمایت حاصل کرنی ہوگی۔
برطانوی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ ’قذافی کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے لیکن ہمیں مزید دباؤ بنائے رکھنے کے لیے حملوں کو شدید کرنا ہوگا‘۔
انہوں نے کہا کہ اب تک ہونے والی کارروائی سے ہمیں کافی کامیابی ملی ہے لیکن ابھی مزید کارروائی کرنی ہوگی۔
جنرل سرڈیوڈ رچرڈ کا کہنا ہے کہ ابھی تک تو نیٹو لیبیا میں بنیادی ڈھانچوں کو ہدف نہیں بنا رہی’ لیکن اگر ہمیں قذافی پر دباؤ بڑھانا ہے تو اپنے حملوں کے اہداف کا دائرہ وسیع کرنے پر سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا‘۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ان کا کہنا ہے کہ نیٹو کی محتاط کارروائی کے سبب شہریوں کی ہلاکتیں بہت ہی کم ہوئی ہیں۔
ان کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب لیبیا کے میڈیا میں یہ خبریں آرہی ہیں کہ بریگا میں نیٹو کے حملے میں گیارہ علماء ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ نیٹو کا کہنا ہے کہ اس نے’واضح طور پر ‘ ایک فوجی کمانڈ اینڈ کنٹرول سائٹ کو نشانہ بنایا تھا۔





















