’عبداللہ صالح یمن میں ہی موجود‘

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
یمن میں حکام نے صدر عبداللہ صالح کی ملک چھوڑنے کی خبروں کی سنیچر کو تردید کی ہے۔
صدر عبداللہ صالح گزشتہ روز دارالحکومت صنعاء میں ایک حملے میں زخمی ہوگئے تھے۔
اس سے قبل، سرکاری ذرائع نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ عبداللہ صالح نے ملک چھوڑ دیا ہے اور وہ علاج کی غرض سے سعودی عرب روانہ ہوگئے ہیں۔
سرکاری خبر رساں ادارے نے کہا تھا کہ حملے میں زخمی ہونے والے پانچ اعلٰی عہدیدار بھی ایک طیارے کے ذریعے پڑوسی ملک روانہ ہوچکے ہیں۔
عبداللہ صالح نے جمعہ کو ایک آڈیو پیغام میں کہا تھا کہ وہ خیریت سے ہیں تاہم ان کی صحت کے بارے میں قیاس آرائیاں جاری رہیں تھیں۔
اپنے پیغام کے دوران ان کی آواز سے نقاہت جھلک رہی تھی جبکہ انہوں نے چند جگہ لمبی سانسیں بھی بھری تھیں۔
انہوں نے حملے کا الزام اپنے دشمن قبیلے کے اُن افراد پر لگایا تھا جو قانون کو مطلوب ہیں۔ اِس الزام کو ہاشِد قبیلے کے سربراہ شیخ صادق الاحمر نے مسترد کردیا۔ اِس قبیلے کے جنگجو، سکیورٹی فورسز نبرد آزما ہیں۔
یمن میں رات بھر جھڑپیں تھمی رہیں۔ اِن جھڑپوں میں گزشتہ ایک ہفتے کے دوران ایک سو ساٹھ افراد ہلاک ہوچکے ہیں جبکہ یمن خانہ جنگی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دارالحکومت میں جگہ جگہ چوکیاں قائم کردی گئیں ہیں اور کئی سڑکوں کو بند کردیا گیا ہے۔ چند شہری روزمرہ کی اشیاء کے حصول کے لیے سڑکوں پر نظر آرہے ہیں تاہم حالات انتہائی کشیدہ ہیں۔
امریکہ، یورپی یونین اور خلیجی تعاون کی کونسل نے متحارب گروہوں سے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔






















