پاکستان کو امریکی دفاعی امداد پر پابندی عائد

،تصویر کا ذریعہOther

امریکی ایوانِ نمائندگان نے دفاعی اخراجات کے بل کی منظوری دی ہے جس کے تحت اس مد میں پاکستان کو دی جانے والی امداد پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

اس بل میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایک مخصوص گروپ بنایا جائے گا جو امریکہ کا مستقبل میں افغانستان میں کردار کا بھی جائزہ لے گا۔

<link type="page"><caption> پانچ ہزار سینتیس ارب روپے کا نقصان</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/06/110603_pak_war_economy_zz.shtml" platform="highweb"/></link>

<link type="page"><caption> پاکستان کے ساتھ امریکہ کے وعدے زیادہ، امداد کم</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2011/05/110517_us_aid_details_rza.shtml" platform="highweb"/></link>

مالی سال دو ہزار گیارہ کے لیے کمیٹی نے دفاعی ادارے پینٹاگون کے لیے پانچ سو تیس ارب جبکہ، افغان جنگ کے لیے ایک سو انیس ارب ڈالر کے اخراجات کی منظوری دی جو صدر اوباما کی طرف سے بھیجے گئے مجموعی بِل میں سے نو ارب ڈالر کم ہیں۔

اِس بِل کے تحت، پاکستان کے لیے منظور کی گئی ایک اعشاریہ ایک ارب ڈالر کی امداد کا پچھتر فیصد حصہ اس وقت تک جاری نہیں کیا جائے گا جب تک صدر اوبامہ کی انتظامیہ کمیٹی کو یہ رپورٹ نہیں دے گی کہ پاکستان کو دی گئی امداد کہاں خرچ ہو گی۔

لیکن منگل کو امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے دفاعی اخراجات نے جیف فلیک کی جانب سے تجویز کی گئی ترمیم بھی منظور کی۔ اس ترمیم کے تحت امریکی کانگریس اوباما انتظامیہ کی جانب سے پیش کی گئی رپورٹ کا تیس روز میں جائزہ لے گی اور پھر فیصلہ کیا جائے گا کہ آیا یہ امداد جاری کی جائے یا نہیں۔

امریکی خبر رساں ایجنسی اے پی کے مطابق کمیٹی نے اپنے رکن فرینک وولف کی طرف سے خصوصی افغانستان پاکستان مطالعہ گروپ تشکیل دینے کی ترمیم بھی منظور کی۔ یہ دو فریقی افغانستان کے مسئلے کا آزدانہ جائزہ لے گا اور امریکی مفادات کا تعین کرے گا۔

کمیٹی کے رکن نورم ڈک نے کہا کہ اوباما انتظامیہ کو افغانستان سے امریکی فوجی انخلاء کو تیز کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا ’سوال یہ ہے کہ انتظامیہ امریکی عوام کی مدد کرنا چاہتی ہے یا دیگر ممالک کی تعمیرِ نو۔‘