کرنل قذافی کے احاطے کے قریب چھ دھماکے

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

لیبیا کے دارالحکومت طرابلس کے مرکزئی علاقے باب العزیزہ میں جہاں کرنل قذافی کی سرکاری رہائش گاہ واقع ہے چھ زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

جمعرات کی صبح اس علاقے سے دھویں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھ گئے۔

حالیہ مہینوں میں یہ احاطہ نیٹو کی فضائی بمباری کا خصوصی ہدف رہا ہے۔

نیٹو اتحاد نے کرنل قذافی کی افواج کی طرف سے لیبیا کے باغیوں کو کچل دینے کے حظرات کے پیش نظر مارچ میں لیبیا پر فضائی پابندی نافذ کر دی تھیں۔

لیبیا کی حکومت کی طرف سے ان دھماکوں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا گیا جبکہ نیٹو نے بھی فضائی حملوں کرنے کی تصدیق نہیں کی ہے۔

اسی دوران روس کے ایک سفارت کار ترپولی میں کرنل قذافی کے سرکاری اہلکاروں سے اس تنازع کو حل کرنے کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔

روسی سفارت کار مائیکل مارگیلوف نے گزشتہ ماہ بن غازی میں باغیوں کے نمائندوں سے بات چیت کی تھی۔

ترپولی میں موجود بی بی سی کے مشرق وسطی کے مدیر جرمی بون کا کہنا ہے کہ روسی سفیر کو ایک پیچیدہ معاملے کا سامنا ہے۔

کرنل قذافی کی حکومت نے کہا ہے کہ وہ جنگ بندی اور ملک کے مستقبل پر مذاکرات کرنے کے لیے ہیں بشرطیکہ لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے دیا جائے۔

فرانس، برطانیہ اور امریکہ نے جو نیٹو کارروائیوں کی قیادت کر رہے ہیں اس تنازع میں غیر لچکدار رویہ اپنا ہوا ہے اور وہ حکومت کی تبدیلی سے کم کسی چیز پر بات کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ان ملکوں کا کہنا ہے کہ وہ جنگ بندی اور اس کے بعد کی صورت حال پر مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

جرمنی بوئن کا کہنا ہے کہ لیبیا کی خانہ جنگی میں فوجی مداخلت کرنا ایک غیر دانشمندانہ قدم ہے۔

نیٹو ملکوں میں پائے جانے والے اختلاف رائے سے کرنل قذافی پورا فائدہ اٹھانا چاہیں گے۔

برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے اصرار کیا ہے کہ جب تک ضروری ہو لیبیا میں کارروائی جاری رکھی جا سکتی ہے۔

برطانوی وزیر اعظم نے برطانوی پارلیمان کے ارکان سے بدھ کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’وقت ہمارے ساتھ ہے۔‘