لیبیا ہلاکتیں، نیٹو کا اظہار افسوس

،تصویر کا ذریعہReuters (audio)
نیٹو کا کہنا ہے کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ اس کے فضائی حملے کا نشانہ بننے والی عمارت رہائشی تھی تو اسے عام شہریوں کی ہلاکت پر افسوس ہو گا۔
لیبیا میں سرکاری حکام کے مطابق دارالحکومت طرابلس کے سق الجمعہ کے علاقے میں ایک مکان پر نیٹو کے فضائی حملے میں دو بچوں سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔
تاہم نیٹو کے ترجمان ونگ کمانڈر مائیک بریکن نے بی بی سی کو بتایا کہ انہوں نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائیل کے ایک اڈے کو نشانہ بنایا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ نیٹو نے اب تک ٹھیک ٹھیک نشانہ لگانے والے ہتھیاروں کی مدد سے ساڑھے گیارہ ہزار حملے کیے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے کہ نیٹو کے فضائی حملے میں عام شہریوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔
<link type="page"><caption> لیبیا میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں</caption><url href="http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2011/06/110609_libya_icc_fz.shtml" platform="highweb"/></link>
بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اگر یہ بات ثابت ہو گئی کہ حملے میں عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی ہے تو اس سے فوجی مہم کے بارے میں شدید نوعیت کے سوالات جنم لیں گے۔
اس سے پہلے دارالحکومت میں بی بی سی کے نامہ نگار جریمی بوؤن نے کہا تھا کہ نیٹو کے مشتبہ فضائی حملے کے نتیجے میں سق الجمعہ علاقے میں واقع ایک تین منزلہ مکان کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
لیبیائی حکام کے مطابق جس علاقے میں مبینہ طور پر نیٹو کا فضائی حملہ ہوا ہے وہ شہر کا ایک غریب علاقہ ہے۔
متاثرہ عمارت میں امدادی کارکنوں کے علاوہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد امدادی کارروائیوں میں مصروف ہے اور مزید لاشوں کی تلاش کے لیےملبے کو ہٹایا جا رہا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
علاقے کے لوگوں کا کہنا ہے کہ عمارت میں رہائش پذیر خاندان کے تمام افراد ہلاک ہو گئے ہیں تاہم فوری طور پر اس اطلاع کی تصدیق ممکن نہیں ہو سکی ہے۔
اس سے پہلے نیٹو نے الزام عائد کیا ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کی حامی فوجیں مساجد اور بچوں کے پارکوں کو ڈھال کے طور پر استعمال کر رہی ہیں جبکہ لیبیائی حکام کے مطابق نیٹو کے فضائی حملوں میں عام شہریوں کو نشانہ بنایا جا جا رہا ہے۔
نیٹو کے مطابق کرنل قذافی کی فوج ایک منظم طریقۂ کار کے تحت لیبیائی شہریوں پر وحشیانہ حملے کر رہی ہیں۔
نیٹو کا یہ بیان لیبیا کی جانب سے اس الزام کے بعد سامنے آیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ نیٹو افواج جان بوجھ کی عام شہریوں کی عمارتوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔
جمعہ کو لیبیا کے وزیراعظم نے کہا تھا کہ نیٹو ایک نئی سطح کی جارحیت کا استعمال کر رہا ہے۔
’ہمارے پر یہ واضح ہو گیا ہے کہ نیٹو جان بوجھ کر شہری عمارتوں کو نشانہ بنا رہا ہے اور یہ انسانیت کے خلاف ایک جرم ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
نیٹو نے ان الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔
دوسری طرف نیٹو نے تسلیم کیا ہے کہ اس کے جنگی جہازوں نے جمعرات کو غلطی سے باغیوں کی فورسز کو نشانہ بنایا تھا۔ نیٹو کی جانب سے جاری کیے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مشرقی لیبیا کے قصبے بریگا میں فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق باغیوں کا یہ قافلہ اس جگہ پر موجود تھا جہاں کرنل قذافی کی حامی افواج موجود ہیں۔
نیٹو نے اس واقعہ میں کسی بھی جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے بدقسمتی قرار دیا ہے۔
لیبیا میں مارچ سے نیٹو افواج کے فضائی حملوں میں اب تک متعدد باغی جنگجو اور عام شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔
دریں اثناء باغیوں نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ کے پاس مالی وسائل ختم ہو گئے ہیں کیونکہ امدادی دینے والوں نے اپنے وعدوں کے مطابق ابھی تک فنڈز فراہم نہیں کیے ہیں۔




















