’اوباما نے قانونی مشورہ نظر انداز کردیا‘

،تصویر کا ذریعہAFP
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے کانگریس کی منظوری کے بغیر لیبیا کے خلاف مہم جاری رکھنے کے حوالے سے سرکاری قانونی مشیروں کے مشورے کو نظرانداز کر دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس کا اصرار ہے کہ صدر کو اس مہم کے لیے کانگریس کی اجازت درکار نہیں تھی کیونکہ اس فوجی مہم کا دائرہ بہت محدود ہے اور امریکہ اس فوجی کارروائی میں صرف ایک معاون کا کردار ادا کر رہا ہے۔
تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ صدر کے اقدامات جنگی اختیارات سے متعلق 1973ء کے ایکٹ کی خلاف ورزی ہیں۔ جس کے تحت صرف ساٹھ دن تک جاری رہنے والی فوجی کارروائی کے لیے کانگریس سے منظوری لینا ضروری نہیں ہوتا۔
براک اوباما نے لیبیا میں فوجی کارروائی کے اپنے فیصلےسے متعلق مارچ میں کانگریس کو آگاہ کیا تھا تاہم اُنھوں نے کانگریس کی منظوری طلب نہیں کی تھی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی محکمۂ دفاع کے وکیل جہ جانسن اور محکمۂ انصاف کے شعبۂ قانونی مشاورت کی قائم مقام سربراہ کیرولین کراس نے صدر اوباما کو مشورہ دیا تھا کہ لیبیا میں فضائی مہم میں امریکی شمولیت ’جارحیت‘ کے زمرے میں آتی ہے۔
تاہم امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے وکیل رابرٹ باؤر اور محکمۂ خارجہ کے قانونی مشیر ہیرالڈ کوہ کے مشورے کو مقدم جانا جن کا کہنا تھا کہ اس مہم میں امریکی شمولیت جارحانہ اقدام نہیں۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر محکمۂ انصاف کے شعبۂ قانونی مشاورت کے پیش کردہ نتائج کو نظرانداز کر سکتے ہیں لیکن ایسا شاذونادر ہی ہوتا ہے۔
ویتنام جنگ کے زمانے میں بنانے گئے ایک قانون کے تحت امریکی صدر کو کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی سے پہلے یا تو کانگریس سے منظوری لینا ہوتی ہے اور اگر صدر فوجی کارروائی شروع کرنے سے پہلے کانگریس سے منظوری حاصل نہیں کرتے تو انہیں ساٹھ روز میں وہ کارروائی ختم کرنی ہوتی ہے تاہم وہ اسے مزید ایک مہینے تک جاری رکھنے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
لیبیا کے خلاف نیٹو کی کارروائی کو دو ماہ بیس مئی کو پورے ہوئے تھے اور اگر اس میں ایک ماہ کی اضافی مدت شامل کر لی جائے تو اتوار انیس جون کو نوے دن بھی پورے ہو جائیں گے۔
ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے ایوان نمائندگان کے سپیکر جان بینر نے کہا ہے کہ اگر اتوار کے روز امریکہ نے لیبیا کے خلاف کارروائی ختم نہ کی یا اس کی کانگریس سے منظوری حاصل نہ کی تو صدر اوباما جنگی اختیارات کے قانون کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوں گے۔
امریکی کانگریس اراکان کے ایک گروپ نے وفاقی عدالت میں ایک مقدمہ بھی دائر کیا ہے جس میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صدر اوباما کانگریس کی منظوری کے بغیر لیبیا کے خلاف فوجی کارروائی کر کے اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس نے رواں ہفتے کانگریس کو بتیس صفحات پر مشتمل ایک دستاویز بھیجی ہے جس میں موقف اختیار کیاگیا ہے کہ لیبیا کے خلاف کارروائی 1973 کے ایکٹ کے دائرے میں نہیں آتی کیونکہ امریکہ اقوام متحدہ کی قرارداد کی روشنی میں جاری فوجی کارروائی میں معاون کا کردار ادا کر رہا ہے۔
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ انکشاف کانگریس کو سیخ پا کر سکتا ہے کہ صدر اوباما نے ایک ایسے تنازع میں شمولیت کے سلسلے میں اپنی انتظامیہ کے وکلاء کی تنبیہ کو نظرانداز کیا جس پر امریکہ روزانہ ایک کروڈ ڈالر کے قریب خرچ کر رہا ہے۔





















