برطانیہ فون ہیکنگ: پولیس سربراہ مستعفی

برطانیہ میں فون ہیکنگ سکینڈل کے نتیجے میں میٹروپولیٹن پولیس کمشنر سر پال سٹیفنسن نے اپنے عہدے سے استعفٰی دے دیا ہے۔
ملک کے سینئر پولیس افسر کو نیوز آف دی ورلڈ کے ایگزیکٹو نِیل والِس کو اپنا مشیر مقرر کرنے پر سخت تنقید کا سامنا تھا۔ فون ہیکنگ سکینڈل میں پولیس نے نیل والس سے پوچھ گچھ کی ہے۔
سر پال نے اپنے استعفے کا مقصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے صحافی سے تعلقات، تحقیقات پر اثر انداز ہو سکتے تھے۔
انہوں نے کہا ’میں نے یہ فیصلہ قیاس آرائیوں اور الزامات سامنے آنے کے بعد کیا ہے۔ یہاں مجھے صاف الفاظ میں یہ کہنے کی اجازت دیں کہ مجھے اور جو لوگ مجھے جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ میری ساکھ قائم ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ اس معاملہ سے سبق حاصل کرنا چاہیے تاہم وہ اپنےعہدے کو اپنی ساکھ قائم رکھنے کے لیے خیرباد کہہ رہے ہیں۔
سیکرٹری داخلہ تھیریسا مے نے ان کے استعفے پر اپنے تاسف کا اظہار کیا تاہم ان کی خدمات پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کے بقول ’سر پال نے فورس کی مشکل وقت میں رہنمائی کی اگرچہ موجودہ حالات بھی ظاہر کرتے ہیں کہ اب بھی سنجیدہ معاملات حل طلب ہیں، مجھے یقین ہے کہ جب انہوں نے یہ عہدہ سنبھالا تھا اس دن کی نسبت آج یہ فورس عملاً زیادہ مضبوط ہے۔‘
اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ وہ پیر کو ارکانِ پارلیمان کو پولیس اور نیوز انٹرنیشنل کے درمیان قربت پر اپنی تشویش کا اظہار کریں گی۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
گزشتہ روز نیوز انٹرنیشنل کی سابق چیف ایگزیکٹو تینتالیس سالہ ربیکا بروکس کو فون ہیکنگ کی تحقیقات کرنے والی پولیس نےگرفتار کر لیا۔
انہیں فون ہیکنگ کی منصوبہ بندی اور بدعنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
فون ہیکنگ کے سکینڈل میں ربیکا پر دباؤ بڑھتا جا رہا تھا جس کے نتیجے میں جمعہ کو انہوں نے نیوز انٹرنیشنل میں اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا۔
ربیکا بروکس دو ہزار دو سے دو ہزار تین کے درمیان اس اخبار کی مدیر تھیں اور اسی دوران سکول کی ایک لڑکی ملی ڈاؤلر کا فون ہیک کیا گیا جب وہ لاپتہ تھیں۔ انہیں گمشدگی کے دوران قتل کردیا گیا تھا۔
بی بی سی کے بزنس ایڈیٹر رابرٹ پیسٹن کا کہنا ہے کہ ذرائع نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ربیکا کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ سکاٹ لینڈ یارڈ نے گرفتار ہونے والی خاتون کا نام ظاہر کرنے کا انکار کر دیا۔

،تصویر کا ذریعہBBC World Service
فون ہیکنگ کی تحقیقات کرنے والی پولیس کی جانب سے یہ اب تک کی دسویں گرفتاری ہے۔
برطانیہ میں ٹیلی فون ہیکنگ سکینڈل سامنے آنے کے بعد ایک سو اڑسٹھ سال سے شائع ہونے والا ’نیوز آف دی ورلڈ‘ بند ہو چکا ہے اور گزشتہ اتوار کو اس کا آخری شمارہ شائع ہوا۔
اخبار نیوز آف دی ورلڈ پر جرائم کا شکار ہونے والے افراد، مشہور شخصیات اور سیاستدانوں کے فون ہیک کرنے کا الزام ہے۔ پولیس نے اب تک ایسے چار ہزار ناموں کی نشاندہی کی ہے جو ممکنہ طور پر فون ہیکنگ کا نشانہ بنے ہیں۔
گزشتہ چند دنوں سے یہ دعوے کیے جارہے ہیں کہ سکول جانے والی مقتول لڑکی ملی ڈاؤلر کے موبائل فون اور چھ سال قبل سات جولائی کو لندن میں ہوئے خودکش بم دھماکوں میں ہلاک ہونے والوں کے اہلِ خانہ کے موبائل فونز کو ہیک کرنے کے لیے اخبار کی انتظامیہ نے باقاعدہ اجازت دی تھی۔





















