صومالیہ کو قحط زدہ قرار دے دیا گیا

،تصویر کا ذریعہBBC World Service

صومالیہ میں گزشتہ پچاس برس میں بد ترین خشک سالی کے سبب اقوام متحدہ نے ملک کے کچھ حصوں کو قحط زدہ قرار دے دیا ہے۔

اقوام متحدہ کے بقول امدادی کام کرنے کے باوجود صومالیہ میں لوگوں کے حالات تیزی سے بگڑ رہے ہیں۔

پچھلے انیس سال میں پہلی دفعہ ملک کو قحط زدہ قرار دیا جائے گا۔

دوسری جانب اقوام متحدہ اور امریکہ نے کہا ہے کہ امدادی اداروں کو صومالیہ میں عسکریت پسندوں سے تحفظ کی مزید توقعات ہیں تاکہ متاثرین تک امداد پہنچائی جا سکے۔

واضح رہے کہ القاعدہ سے ملحقہ شدت پسند تنظیم الشباب نے، جو صومالیہ کے جنوبی اور مرکزی علاقوں میں زیر انتظام ہے، دو ہزار نو سے غیر ملکی امدادی اداروں کو تنظیم کے زیر انتظام علاقہ جات میں داخل ہونے سے روک رکھا تھا۔

مشرقی افریقہ میں خشک سالی سے کم و بیش ایک کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں
،تصویر کا کیپشنمشرقی افریقہ میں خشک سالی سے کم و بیش ایک کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں

الشباب نے حال ہی میں ان اداروں کو محدود رسائی کی اجازت دے دی ہے۔

مشرقی افریقہ میں خشک سالی سے کم و بیش ایک کروڑ افراد متاثر ہو چکے ہیں۔ اس خشک سالی کو پچھلے پچاس برس میں بد ترین کہا جا رہا ہے اور لاکھوں متاثرین ملک سے بھاگ کر کینیا اور ایتھوپیا جانے کی کوششوں میں ہیں۔

ملک کے بکول اور نچلے شابیل کے علاقوں میں خشک سالی، تصادم اور غربت اس پیمانے پر پہنچ گئی ہے کہ ان علاقوں کو قحط زدہ قرار دینا ضروری ہو گیا ہے۔

ان علاقوں میں تیس فیصد سے زائد بچے غذائیت کی کمی کا شکار ہیں اور ہر دس ہزار بچوں میں سے روز چار بھوک سے مر رہے ہیں۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ ملک میں سکیورٹی حالات ایسے ہیں کہ امداد فراہم کرنا مشکل ہو رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے برائے مہاجرین کے ترجمان ایڈریئن ایڈورڈز نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ صومالیہ میں وہ حالات نہیں ہیں جو ہم چاہتے ہیں۔

’ہماری محدود رسائی تو ہے اور ہم باضابطہ طور پر ملک کے خطوں میں دوروں پر بھی جا رہے ہیں لیکن اس پیمانے کے قحط کے لیے ضروری ہے کہ ہمیں زیادہ رسائی ملے۔‘

اقوام متحدہ کے محکمہ برائے خوراک، جو صومالیہ میں پندرہ لاکھ افراد کو خوراک فراہم کرنے کی کوششوں میں ہے، کے اندازے کے مطابق تقریباً دس لاکھ افراد ایسے ہیں جن تک ادارے کو رسائی نہیں ہے۔

ادارے کی ترجمان ایملا کیسلا نے برطانوی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ’ہمیں اگر سکیورٹی اور امداد فراہم کرنے کے لیے مکمل رسائی مل جائے تو ہم پھر سے اپنا کام کر سکیں گے۔‘

یاد رہے کہ جنوبی اور مرکزی صومالیہ میں سرگرم شدت پسند تنظيم الشباب نے گزشتہ دو برس سے بیرونی امدادی ایجنسیوں پر یہ کہ کر پابندی عائد کردی تھی کہ یہ ایجنسیاں مسلمانوں کے خلاف ہیں۔