لیبیا کے باغی اصلی حکمران: برطانیہ

،تصویر کا ذریعہGetty
طرابلس نے برطانیہ کے امریکہ اور فرانس کے نقش قدم پر لیبیا کے باغیوں کو ملک کی ’واحد حکومتی اتھارٹی‘ تسلیم کرنے کے فیصلے کو نامنظور قرار دے دیا ہے۔
لیبیا میں کرنل قدافی کی حکومت کے نائب وزیر خارجہ خالد قائم نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ برطانیہ کا یہ فیصلہ غیر ذمہ درانہ اور معمول کے خلاف ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ لیبیا کی کوشش ہوگی کہ یہ فیصلہ عدالتوں کے ذریعے تبدیل کیا جائے۔
برطانیہ نے ملک میں کرنل قدافی کے سفارت کاروں کو برطانیہ چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے۔ اور دوسری جانب باغیوں نے مصنف اور صحافی محمود النکو کو برطانیہ میں لیبیا کا نیا سفیر نامزد کر دیا ہے۔
محمود النکو نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ کرنل قدافی کی حکومت کی مخالفت کرنے کی وجہ سے پچھلے تیتیس برس سے جلاوطن ہیں۔
برطانوی خارجہ سیکرٹری ولیم ہیگ نے باغیوں کی جماعت عوامی عبوری کونسل کے متعلق کہا کہ کرنل قدافی کی حکومت کے برعکس عوامی عبوری کونسل نے لیبیا کو جمہوریت کی طرف لے کر جانے کی ذمہ داری دکھائی ہے۔
ان کا کہنا تھا کے کرنل قدافی کی حکومت نے لیبیائی عوام پر ظلم کیے اور اس بنا پر انھیں قانونی طور پر لیبیا کا رہنما نہیں تصور کیا جا سکتا۔
خالد قائم کا کہنا تھا کہ برطانیہ کی جانب سے باغیوں کو حکومتی اتھارٹی تسلیم کرنا سفارتی تاریخ کے معمول کے خلاف ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
انھوں نے کہا ’یہ ناجائز اور غیر ذمہ درانہ ہے اور ہمیں اس فیصلے پر حیرانی ہوئی کیونکہ اگر برطانیہ کو دیکھے دیکھے دیگر ممالک نے بھی ایسا کیا تو عالمی سطع پر سفارتی افراتفری پڑ جائے گی۔‘
ان کا کہنا تھا ’یہ فیصلہ برطانوی اور عالمی قوانین کے خلاف ہے۔ خاص طور پر انیس سو اکسٹھ کی وی اینا کنونشن کے سفارتی تعلقات پر مشتمل قوانین کے۔‘
نائب وزیر خارجہ نے برطانیہ اور فرانس کی جانب سے مشرقی لیبیا میں باغیوں کی حمایت کرنے کی بھی تردید کی۔





















