نیٹو، روس کے درمیان اختلاف رائے برقرار

،تصویر کا ذریعہGetty
لیبیا میں کرنل قدافی کی افواج کے خلاف جاری نیٹو کارروائی پر روس اور نیٹو آپس میں متفق نہیں ہو سکے ہیں۔
نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرز فوگ راسموسن نے کہا ہے کہ لیبیا میں کرنل قدافی کے خلاف جاری کارروائی اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کی پوری اجازت سے کی جا رہی ہے۔
انہوں نے یہ نیٹو اور روسی کونسل کے جنوبی روس میں منعقد کیےگئے اجلاس میں کہا۔ اجلاس میں روس کی نمائندگی روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کی۔
مسٹر رسموسن کا کہنا تھا کہ ’روس نے لیبیا میں کی جانے والی کارروائی کے متعلق اختلاف کا اظہار کیا ہے۔‘
انھوں نے کہا ’ہمیں پابند کیا گیا ہے کہ ہم شہریوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائیں اور اب تک ہم ایسا کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔‘
واضع رہے کہ روس نے اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل میں نیٹو کی کاروائی کے حق میں ووٹ دینے سے انکار کر دیا تھا اور بیان دیا تھا کہ کارروائی سے متعلق اختلاف رائے سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہو رہے ہیں۔
روس کی رائے میں نیٹو کی کارروائی کا اصل مقصد لیبیا کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا تھا لیکن اب یہ صرف لیبیا کی حکومت کو ہٹانا بن گیا ہے۔
ایک بیان میں روس نے کہا کہ لیبیا میں نیٹو کاروائی جلد از جلد روکنی ہوگی اور باقی ممالک کو مداخلت کے بجائے حکومت اور باغیوں کے درمیان بات چیت کرانے میں مدد کرنی چاہیے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اگرچہ یہ نیٹو اور روسی کونسل کا عمومی اجلاس تھا لیکن لیبیا میں نیٹو کاروائی سے متعلق اختلاف رائے کے باعث اس اجلاس کو خاص اہمیت دی گئی۔
لیبیا میں جاری تصادم کو ختم کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ نیٹو کی تین ماہ کی بمباری کے باوجود کرنل قدافی اقتدار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
دوسری جانب باغیوں نے افریقی یونین کی طرف سے لیبیا کی حکومت اور باغیوں کے درمیان بات چیت کرانے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔ مذاکرات کی پیشکش جنوبی افریقہ کے صدر جیکب زوما کی کوششوں سے کی گئی تھی۔
مسٹر زوما بھی نیٹو اور روسی کونسل کے اجلاس میں موجود تھے اور نیٹو کارروائی کے متعلق روسی نظریے کے حامی ہیں۔




















