’اقتدار چھوڑ دیں، لیبیا میں رہ سکتے ہیں‘

ولیم ہیگ اس بیان سے قبل کرنل قدافی کے لبیا چھوڑنے کے حق میں تھے

،تصویر کا ذریعہPA

،تصویر کا کیپشنولیم ہیگ اس بیان سے قبل کرنل قدافی کے لبیا چھوڑنے کے حق میں تھے

برطانیہ نے فرانس کی لیبیا میں حزب اختلاف کی اس تجویز کی حمایت کی ہے کہ اگر کرنل قذافی اقتدار چھوڑ دیں تو وہ لیبیا میں رہ سکتے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ ولیم ہیگ نے کہا ہے کہ ان کے خیال میں بہتر یہ ہے کہ کرنل قذافی اپنا ملک چھوڑ دیں لیکن یہ لیبیائی عوام پر منحصر ہے کہ وہ اس بارے میں کیا فیصلہ کرتے ہیں۔

ولیم ہیگ نے لندن میں فرانسیسی وزیر خارجہ سے ملاقات سے قبل کہا کہ فرانس اور برطانیہ اس بات پر متفق ہیں کہ کرنل قدافی کے ملک چھوڑنے کا فیصلہ لیبیائی عوام کو کرنا ہو گا۔

واضع رہے کہ ولیم ہیگ اس بیان سے پہلے کرنل قدافی کے لیبیا چھوڑنے کے حق میں تھے تاہم اب انھوں نے اپنا موقف تبدیل کیا ہے۔

لیبیا کی حزب اختلاف نے حال ہی میں عندیہ دیا تھا کہ کرنل قذافی اقتدار چھوڑنے کی صورت میں ملک میں رہ سکتے ہیں۔

ولیم ہیگ نے کہا ’یہ بات واضح ہے کہ صورتحال جو بھی ہو، قدافی کو اقتدار چھوڑنا ہو گا۔ یہ ضروری ہے کہ وہ اقتدار چھوڑنے کے بعد دوبارہ لیبیا اور لیبیائی عوام کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔‘

’ظاہر ہے کہ قذافی کے لیبیا چھوڑنے میں ہی لیبیائی عوام کی بہتری ہے لیکن جیسا میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اس کا فیصلہ لیبیائی عوام کو کرنا ہو گا۔‘

فرانسیسی وزیر خارجہ ایلین جوپ کا کہنا تھا کہ لیبیا کے معاملے پر اتحادیوں کا تعاون بہترین ہے۔

انھوں نے کہا ’ہمارا خیال ہے کہ ہمیں لیبیا کی حکومت کے خلاف دباؤ برقرار رکھنا ہو گا۔‘

’اگر ہم چار ماہ پہلے لیبیا میں مداخلت نہ کرتے تو بن غازی میں خون ریزی ہو رہی ہوتی۔ میرے خیال میں لیبیا کے متعلق ہمارے فیصلے قابلِ فخر ہیں۔‘