ترکی: باغیوں کی نمائندہ حیثیت تسلیم

،تصویر کا ذریعہReuters
ترکی نے لیبیا میں باغیوں کی طرف سے بنائی گئی عبوری قومی کونسل کو عوام کا حقیقی نمائندہ تسلیم کر لیا ہے۔
ترکی کے وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے کہا ہے کہ لیبیا کے رہنما معمر قدافی کے حکومت چھوڑنے کا وقت آ گیا ہے اور اس سلسلے میں ترکی کی حکومت نے باغیوں کو دی جانی والی امداد میں مزید بیس کروڑ ڈالر کا اضافہ کر دیا ہے۔
انہوں نے عبوری قومی کونسل کے سربراہ مصطفیٰ عبدل جلیل سے لیبیا میں باغیوں کے مرکز بن غازی میں ملاقات کی۔
ملاقات کے بعد ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے انہوں نے کہا کہ عوام کے اصلاحات کے مطالبات کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ قدافی کو جانا ہوگا اور لیبیا کو تقسیم نہیں ہونا چاہیے۔
’میں یہاں لیبیا کے عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے آیا ہوں۔ ان کے قانونی طور پر جائز مطالبات کو پورا کرنا ہو گا۔‘
انھون نے کہا ’اس مسئلے کا مستقل حل ڈھونڈنا ہو گا اور وہ صرف سیاسی طور پر عوام کے مطالبات پورے ہونے سے سامنے آ سکتا ہے۔‘
’ہم سمجھتے ہیں کہ عبوری قومی کونسل لیبیا کے عوام کے مطالبات پورے کرنے کے لیے قانونی طور پر ان کا جائز نمائندہ ادارہ ہے۔‘
دوسری جانب باغیوں نے افریقی یونین کی طرف سے لیبیا کی حکومت اور باغیوں کے درمیان بات چیت کرانے کی پیشکش کو مسترد کر دیا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
باغیوں کے ترجمان عبدل حافظ گھوگا نے کہا ’ہم نے پیشکش مسترد کر دی ہے کیونکہ مجوزہ مذاکرات کے عمل میں قدافی، ان کے بچوں اور حامیوں کے استعفے شامل نہیں تھے۔‘
لیکن عبوری قومی کونسل کے سربراہ، مصطفیٰ عبدل جلیل نے کہا ہے کہ اقتدار چھھوڑنے کے بعد کرنل قدافی کو لیبیا میں رہنے کی پوری اجازت ہو گی لیکن انھیں ہر طرح کا اقتدار چھوڑنا ہوگا۔
انھوں نے برطانوی خبر رساں ایجینسی رائٹرز کو بتایا ’ہم نے(قدافی کو) ایک پرامن پیشکش دی تھی۔ ہم نے کہا تھا کہ وہ اقتدار سے الگ ہو کر اپنے فوجیوں کو عہدے چھوڑنے کا حکم دیں اور پھر اس کے بعد فیصلہ کر لیں کہ انھیں لیبیا میں رہنا ہے یا جلاوطن ہونا ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا ’اگر وہ لیبیا میں رہنے کا فیصلہ کرتے ہیں تو ان کے رہنے کی جگہ ہم طے کریں گے اور جگہ کی اور (قدافی کی) نقل و حرکت کی نگرانی عالمی تنظیمیں کریں گی۔‘
واضح رہے کہ لیبیا کی عبوری کونسل کافی عرصے سے بین الاقوامی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف تھی اور ترکی کی حکومت مغربی ممالک کی جانب سے لبییا کے باغیوں کی حمایت کرنے کے خلاف تھی۔ لیکن مسٹر داؤد اوغلو کے دورے کے بعد ایسا لگ رہا ہے کہ باغیوں کو اب ترکی کی پوری حمایت حاصل ہے۔




















