مصراتہ میں باغیوں کی پیش قدمی

،تصویر کا ذریعہnone
لیبیا میں باغی حکومتی فورسز کے ساتھ لڑتے ہوئے مصراتہ سے دارالحکومت طرابلس جانے والے مرکزی قصبے زلیطن کی طرف مسلسل پیش قدمی کر رہے ہیں۔
چھ ہفتوں سے زائد کی خاموشی کے بعد لیبیا کے باغیوں نےحالیہ دنوں میں راکٹ اور مارٹر گولوں کے حملوں کے باوجود کرنل معمر قذافی کی افواج کو پیچھے دھکیل دیا ہے۔
باغیوں کی جانب سے پیش قدمی کی رفتار دھیمی ہے اور انہیں بھاری جانی نقصان بھی اٹھانا پڑا تاہم ان کا کہنا ہے کہ حوصلے بلند ہیں۔
باغی دارالحکومت طرابلس سے اب محض دو سو کلو میٹر کے فاصلے پر ہیں۔
بی بی سی کے نامہ نگار گبرئیل گیٹہاؤس نے جنگجوؤں کے ہمراہ لڑائی کے علاقے میں کئی کلو میٹر کا سفر کیا اور مصراتہ کے مغرب میں اس فرنٹ لائن پر بھی گئےجہاں گذشتہ ڈیڑھ ماہ سے باغیوں اورحکومتی فورسز کے درمیان لڑائی ہو رہی ہے۔
بی بی سی کے نامہ نگار نے دیکھا کہ جنجگو کرنل قذافی کی حامی افواج سے محض پانچ سو میٹر کے فاصلے پر خندقیں کھود رہے ہیں۔ جہاں باغی اب قابض ہیں یہ چند روز قبل تک یہ جگہ کرنل قذافی کی فوج کا مورچہ تھی لیکن اب یہاں باغیوں کا قبضہ ہے۔
نامہ نگار کے مطابق لیبیا کے باغی ’دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہے ہیں۔خندق در خندق، کلو میٹر در کلومیٹر‘۔
ابو بکر ایک بائیس سالہ جنگجو ہے جس کے پیروں میں چپل تھی اور اس نے ارجنٹینا فٹ بال ٹیم کی شرٹ پہن رکھی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ وہ شیلز اور گولیوں سے خوفزدہ نہیں ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کا کہنا تھا ’یہاں موجود ہر شخص کے ذہن میں ایک ہی چیز ہے، اگر ہم اسے(قذافی) مار دیتے ہیں تو یہ ہماری جیت ہے۔ اور اگر ہم مر جاتے ہیں تو ہم جنت میں جائیں گے‘۔
یہ لوگ فوجی نہیں ہیں۔ یہ طلبا ہیں، دکان دار، اکاؤنٹیٹ اور کسان ہیں۔ ان میں فوجی مہارت کا فقدان ہی وقت اور جانوں کے زیاں کا باعث بن رہا ہے۔
لیکن باغیوں کے کمانڈر مفتاخ محمد نے ہمیں بتایا کہ ان کے حوصلے بلند ہیں۔
اس کا کہنا تھا’ ہم اپنی جگہ پر قائم رہیں گے۔ قذافی کے فوجی پیشے کے لئے لڑ رہے ہیں لیکم ہم اپنی آزادی اور وقار کے لئے لڑ رہے ہیں‘۔
یہ جنگجو اگر مغرب کی جانب ایک انچ پر پیش قدمی کرتے ہیں تو ان کے اعتماد اور تجربے میں اضافہ ہوتا ہے۔




















