جاپان: جوہری توانائی کے تین اہلکار برطرف

علاقے میں تقریباً اسی ہزار لوگوں کو ان کے گھروں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے

،تصویر کا ذریعہAP

،تصویر کا کیپشنعلاقے میں تقریباً اسی ہزار لوگوں کو ان کے گھروں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے

جاپان میں جوہری توانائی کے تحفظ اور پالیسی بنانے والے تین اعلیٰ اہلکاروں کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے۔

جاپان کے وزیر برائے صنعت و تجارت بنری کائیدا کا کہنا ہے کہ تینوں سینئیر اہلکاروں کو سونامی سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی بجلی گھر کے مسئلے سے نمٹنے میں ناکامی پر ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔

سونامی سے متاثرہ فوکوشیما ایٹمی پلانٹ سے پانچ ماہ بعد بھی جوہری تابکاری خاری ہو رہی ہے۔

برطرف کیے جانے والے افراد میں جوہری تحفظ کے لیے منسوب ایجنسی نوبوکائی ٹیراساکا اور قدرتی وسائل اور پیداوار کی ایجنسی ٹیٹسوہرو ہوسونو کے سربراہ سمیت جاپان کے نائب وزیر برائے صنعت و تجارت شامل ہیں۔

بنری کائیدا نے فوکوشیما حادثے سے نمٹنے میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا تاہم انھوں نے بتایا کہ وہ بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے رہے ہیں۔

بنری کائیدا کا کہنا تھا ’میں چاہتا ہوں کہ وزارت میں تبدیلی آئے اور نئے لوگوں کو کام کرنے کا موقع ملے۔‘

انھوں نے کہا ’میں پچھلے ایک ماہ سے اسی بارے میں سوچ رہا ہوں۔ میں نئے لوگوں کے ذریعے وزارت کو بہتر بنانے کی کوشش کروں گا۔‘

جاپان میں بجلی بنانے والے دو تہائی جوہری پلانٹ کام نہیں کر رہے جس کی وجہ سے ملک میں بجلی کا بحران جاری ہے۔

جاپان کے وزیرِاعظم ناؤٹو کان نےکچھ عرصہ قبل کہا تھا کہ ملک میں پیداوار کا مسئلہ حل کرنے کے لیے دیگر وسائل کو استعمال میں لانا ہو گا۔

فوکوشیما میں جوہری پلانٹ کے ارد گرد بیس کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے تقریباً اسی ہزار افراد کو ان کے گھروں سے دوسری جگہ منتقل کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے علاقے کے کسان اور کاروبار خاص طور پر متاثر ہوئے ہیں۔