شاہ رخ کو مائگرین، عامر کا رقص
- مصنف, ریحانہ بستی والا
- عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، ممبئی
کیٹ رنبیر ایک ساتھ

رنبیر اور قطرینہ کے درمیان گہری دوستی کی خبریں ابھی ماند بھی نہیں پڑی تھیں کہ ایک بار پھر خبر آئی کہ رنبیر اور کیٹ بے بی فلم ’راک سٹار‘ میں ایک ساتھ کام کریں گے۔
فلم ’عجب پریم کی غضب کہانی‘ اور ’راج نیتی‘ میں ایک ساتھ کام کے بعد بالی وڈ میں اس فریش اور جوان جوڑی کو ’ہٹ‘ جوڑی کا خطاب مل گیا تھا۔ اسی کے ساتھ دونوں کی ’گہری دوستی‘ کے چرچے بھی شروع ہوئے۔ یہ ہم جانتے ہیں کہ اس میں سچائی نہیں ہے لیکن ایک سچائی ضرور ہے کہ کیٹ بے بی کی اب اکشے کے بجائے رنبیر کے ساتھ جوڑی بن چکی ہے۔
منصور خان کی واپسی
اگر بالی وڈ گلیاروں میں اڑتی خبروں پر یقین کر لیا جائے تو فلمساز منصور خان ایک بار پھر پردے کے پیچھے سے لائٹس، کیمرہ، او کے، کہنے کے لیے تیار ہیں۔ عامر خان آخر جیت گئے۔ عامر خان کے ماموں منصور اور خود عامر نے اپنا فلمی کریئر فلم ’قیامت سے قیامت تک‘ سے شروع کیا تھا۔ اس کے بعد اس جوڑی نے کئی کامیاب فلمیں بنائیں۔ لیکن اب وہ کون سے فلم سے واپسی کر رہے ہیں وہ بھی بتا دیں آپ کو۔ فلم ’یادوں کی بارات‘ سے۔ جی ہاں فلم یادوں کی بارات اپنے وقت کی سپر ہٹ فلم تھی لیکن اس فلم میں اب دھرمیندر نہیں عامر اور عمران خان ہوں گے۔ فلم آئندہ برس سیٹ پر جائے گی کیونکہ اس برس تو عامر کسی بھی فلم میں کام نہ کرنے کا تہیہ کر چکے ہیں۔
شاہ رخ کو مائگرین

شاہ رخ اپنی آنے والی فلم ’مائی نیم از خان‘ کے کردار میں کچھ اس طرح ڈھل گئے کہ اداکاری کے دوران انہیں زبردست مائگرین کا درد اٹھا۔ کچھ دنوں تک درد کش دوا لینے اور اسے نظر انداز کرنے کے بعد آخر انہیں ڈاکر کے پاس جانا پڑا اور ڈاکٹروں نے طبی جانچ کے بعد جو رپورٹ دی ہے اس کے مطابق شاہ رخ اس رول کے لیے جس طرح ہر چند لمحے پر اپنی آئی برو اٹھاتے ہیں، یا کسی چیز کو دیر تک گھورتے ہیں یہ مائگرین کا درد اسی وجہ سے ہو رہا ہے۔ ہمیں لگتا ہے شاہ رخ کو اپنے کردار کو اتنی بخوبی نبھانے کے لیے اس طرح مشقت کرنے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔
سلو کی مستی
بالی وڈ میں سلمان اور شرارت ایک ہی سکے کے دو رخ مانے جاتے ہیں۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ سلو اور ان کا غصہ بھی اسی زمرے میں گردانے جاتے ہیں۔ لیکن اسے چھوڑیے یہاں تو ہم بات کر رہے ہیں ان کی مستی کی۔ آپ ایک بات بتائیے اگر آپ کو کسی سکول میں بطور جج بلایا جائے تو آپ کیا کریں گے؟ اپنی تقریر میں بچوں کو پڑھنے اور شرارت نہ کرنے کی ہدایت نا۔۔۔ آں ہاں ۔۔۔ لیکن یہ بات سلو پر واجب نہیں آتی۔ وہ تقریر کرنے کھڑے ہوئے تو انہوں نے اپنی سکول کے دن یاد دلائے کہ کس طرح وہ شرارتیں کیا کرتے تھے۔ وہ کلاس کے سب سے شریر لڑکے تھے اور انہیں سکول سے نکال دیا گیا تھا۔۔۔ پھر انہوں نے سوال کر دیا۔ آپ میں سے کون کون شرارت کرتا ہے۔ پہلے ایک بچے نے ہاتھ اٹھایا، پھر دھیرے دھیرے سارے بچے اُچھلنے لگے اور وہ شور مچا کہ ٹیچروں کو کانوں پر ہاتھ رکھنا پڑا۔ اب پتہ نہیں سکول والے آئندہ برس انہیں پھر مدعو کرتے ہیں یا نہیں۔
وی بی کون؟

یہ پہیلی شاہد کے لیے مشکل بن چکی تھی۔ وہ وی بی کسے سمجھیں ودیا بالن کو یا پھر وشال بھردواج کو ۔۔۔ شاہد کپور کے موبائیل کے میسیج باکس میں ایک پیغام ملا جس میں لکھا گیا تھا کہ ’کمینے میں تم بہت اچھے لگے‘ اب یہ یقینی بات تھی کہ یہ پیغام وشال نہیں لکھ سکتے تھے کیونکہ فلم تو انہوں نے ہی ڈائریکٹ کی تھی اس لیے شاہد کو اندازہ ہوا کہ ودیا نے پرانی رنجش بھلا کر گفتگو میں پہل کی ہے۔ شاہد نے فون اٹھایا اور ودیا سے کہا کہ اگر تعریف ہی کرنی تھی تو صرف میسیج کیوں کیا؟ اب آپ سمجھ سکتے ہیں کہ شاہد کو کیا محسوس ہوا ہو گا جب ودیا نے پیغام بھیجنے سے متعلق لا تعلقی ظاہر کی ہو گی۔۔!
بدنام ہوں گے تو کیا ۔۔۔۔
جی ہاں بدنام ہونے پر بھی نام تو کیش ہو ہی جاتا ہے۔ یہی حال شائنی آہوجہ کا ہے۔ آپ کو شائنی یاد ہے نا؟ فلم ’گینگسٹر‘ یا وہ لمحے یا پھر بھول بھلیاں۔۔۔ کئی فلموں کے لیے نہ سہی لیکن ان پر عائد پولیس الزامات کے لیے وہ سب کو یاد ہوں گے۔ ان کی اس منفی شہرت کو اگر کوئی اچھی طرح کیش کرنا چاہتا ہے تو وہ ہیں فلم ’ہر پل‘ کے ہدایت کار۔ شائنی اور پریتی زنٹا کے ساتھ بنی یہ فلم ایک عرصہ سے ڈبے میں تھی لیکن اب یہ فلم ڈبے سے باہر آنے کو اور شائنی فلم کے پروموشن کے لیے تیار ہیں۔ اور آپ سب تیار رہیے شائنی اور پریس کے درمیان دھماکہ دار انٹرویو کے لیے۔۔۔
عامر سٹیج پر
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

عامر سٹیج پر ہوتے ہی ہیں اس میں نئی کیا بات ہے؟
نئی بات یہ ہے کہ عامر کم سے کم دس برس بعد ایک بار پھر سٹیج پر رقص کریں گے۔۔۔ جی ہاں آپ نے صحیح سنا ہے۔ عامر نے جونیئر آرٹسٹوں کی مدد کے لیے کیے جانے والے پروگرام میں سٹیج پر رقص کرنا منظور کر لیا ہے۔ پندرہ جنوری کو ہونے والے اس پروگرام میں عامر اپنی فلموں کے نغموں پر رقص کریں گے۔ شاید کوئی ایسا دن بھی آئے جب عامر فلموں کے ایوارڈ فنکشن میں بھی جانا شروع کر دیں۔
خالی جھولی
اگر ہم کہیں کہ سیف علی خان کے پاس اس برس صرف ایک ہی فلم ’ایجنٹ ونود‘ ہے تو کیا آپ یقین کریں گے؟ نہیں نا لیکن بڑی خبر یہ ہے کہ ہٹ فلمیں دینے والی ہیروئین قطرینہ کیف کے پاس بھی اس برس صرف ایک ہی فلم ’راج نیتی‘ ہے۔ اگر کامیاب ہیرو یا ہیروئین کے پاس صرف ایک دو فلمیں ہوں تو اسے آپ کیا کہیں گے؟ اچھی کہانیوں کا فقدان ۔۔۔






















