ورن گرفتاری کے بعد عدالتی تحویل میں

ورن گاندھی
،تصویر کا کیپشنورن گاندھی کا کہنا ہے کہ میڈیا میں جو سی ڈی دکھائی گئی ہے اس میں ان کی آواز نہیں ہے۔

بھارتیہ جنتا پارٹی کے امیدوار ورون گاندھی نے مسلم مخالف اشتعال انگیز تقریر کے معاملے میں اپنے آپ کو پیلی بھیت جاکر عدالت کے سامنے پیش کردیا ہے۔ عدالت نے انہیں پیر تک کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا ہے۔

اپنی گرفتاری سے پہلے ورون گاندھی نے کہا ' میرے جیل جانے سے اگر لوگوں میں اپنے اصولوں کے لیے لڑنے کی ہمت آتی ہے تو میں جیل جانے کے لیے تیار ہوں'۔

انکا کہنا تھا کہ انہیں ایک سیاسی سازش کے تحت نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ورون گاندھی نے کہا کہ وہ اپنے اصولوں سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں اور انہیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے۔

ورون گاندھی کی گرفتاری سے پہلے اترپردیش میں بھارتیہ جنتا پارٹی کے انچارج کلراج مشرا نے بی بی سی کو بتای تھا کہ ورن گاندھی نے پیشگی ضمانت واپس لے لی تھی۔ انکے خلاف ایف آئی آر درج ہے اس لیے انکی گرفتاری ہونی ہے اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے آپ کو عدالت کے حوالے کردیں گے۔

گزشتہ روز ورون گاندھی نے دلی ہائی کورٹ سے اپنی پیشگی ضمانت کی عرضی واپس لے لی تھی اور کہا تھا کہ وہ پیلی بھیت جاکر اپنے آپ کو عدالت کے حوالے کردیں گے۔

آلہ آباد ہائی کورٹ نے ایف آئی آر خارج کرنی کی انکی عرضی مسترد کردی تھی۔جس کے بعد ورون گاندھی نے دلی ہائی کورٹ میں پیشگی ضمانت کی عرضی دی تھی جس کی مدت 27 مارچ کو ختم ہوگئی تھی۔ ورون نے اس کےبعد پیشگی ضمانت کی عرضی واپس لے لی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ورن کا پیلی بھیت کی عدالت میں جاکر اپنی گرفتاری دینا بھارتیہ جنتا پارٹی کی انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے اور اس سے بی جے پی کو فائدہ ہوگا۔

ورون گاندھی پر الزام ہے کہ چھ مارچ کو انہوں نے اپنے حلقے میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کی تھی ۔ ورون گاندھی نے ان الزامات کو پوری طرح مسترد کیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ سی ڈی میں چھیڑ چھاڑ ہوئی ہے اور انہوں نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا تھا۔ ورون گاندھی کی ماں مانیکا گاندھی نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ ورون گاندھی کو سیاسی سازش کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ورون گاندھی کی مبینہ تقریر کا الیکشن کمیشن سخت نوٹس لیا تھا اور کمیشن کی ہدایات پر ہی ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔

الیکشن کمیشن نے حال ہی میں کہا تھا کہ یہ ثابت کرنے کی ذمہ داری ورون گاندھی پر ہے کہ سی ڈی میں چھیڑ چھاڑ ہوئی یا نہیں۔

کمیشن نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو یہ بھی مشورا دیا تھا کہ وہ پیلی بھیت سے ورون گاندھی کو اپنا امید وار نہ بنائے۔ لیکن بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے اس مشورے کو مسترد کردیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ پیلی بھیت سے ورون گاندھی ہی اس کے امید وار ہوں گے۔

ٹی وی چینلز پر نشر ہونے والی ویڈیو ميں ورون گاندھی کہہ رہے ہیں کہ اگر کوئی ہندؤوں کی طرف ہاتھ بڑھاتا ہے یا پھر یہ سوچتا ہے کہ ہندؤں کی سربراہی کرنے والا کوئی نہیں ہے تو میں گیتا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں اس ہاتھ کو کاٹ دوں گا۔

اپنے خطاب میں ورون گاندھی نے مہاتما گاندھی کے مشہور عدم تشدد کے فلسفے کو بھی غلط قرار دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا ميں اسے بیوقوفی مانتا ہوں کہ اگر کوئی آپ کے ایک گال پر ایک چانٹا مارے تو آپ دوسرا گال آگے کر دیں ۔۔۔۔اس کے ہاتھ کاٹ دو تاکہ وہ کسی دوسرے پر بھی ہاتھ نہ اٹھا سکے۔

ہ ورون گاندھی نے پیلی بھیت کے ضلع مجسٹریٹ کو دیے اپنے جواب میں اشتعال انگیز بیان دینے کے الزام کو غلط قرار دیتے ہوئے اس سے انکار کیا ہے۔

حکمراں جماعت کانگریس اور بھارتیہ جنتا پارٹی سمیت کئی سیاسی جماعتوں نے ورون گاندھی کے بیان پر سخت نکتہ چینی کی ہے۔